سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 420 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 420

۴۲۰ فلسفہ خوب آتا ہے۔مجھ سے پڑھ لو یا حساب بہت آتا ہے وہ پڑھ لو۔ہاں یہ ضرور کہا ہے کہ قرآن کریم مجھ سے ہی پڑھ سکتے ہو اور میرا کسی اور علم کا ماہر نہ ہونا کوئی بنک کی بات نہیں۔ایک نجار اگر لوہار کا کام نہیں جانتا تو اس میں اس کی کوئی ہتک نہیں یا اگر ایک جولاہانائی کا کام نہیں جانتا تو اسے جاہل نہیں کہا جا سکتا۔جو شخص جس فن کو جانتا ہے اس کے علم کا امتحان اس فن میں کیا جا سکتا ہے۔اس سے باہر نہیں۔پس میرے قرآن کریم کے سوا کسی علم میں ماہر نہ ہونے کو کوئی اگر جہالت قرار دیتا ہے تو بڑے شوق سے دے۔میرے لئے اس میں ہتک کی کوئی بات نہیں۔۔۔اصل عزت وہی ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔چاہے دنیا کی نظروں میں انسان ذلیل سمجھا جائے۔اگر وہ خدا تعالیٰ کے رستہ پر چلے تو اس کی درگاہ میں وہ ضرور معزز ہو گا اور اگر کوئی شخص جھوٹ سے کام لے کر اپنے غلط دعویٰ کو ثابت بھی کر دے اور اپنی چستی یا چالاکی سے لوگوں میں غلبہ بھی حاصل کرلے تو خدا تعالیٰ کی درگاہ میں وہ عزت حاصل نہیں کر سکتا اور جسے خدا تعالیٰ کے دربار میں عزت حاصل نہیں وہ خواہ ظاہری لحاظ سے کتنا معزز کیوں نہ سمجھا جائے اس نے کچھ کھویا ہی ہے حاصل نہیں کیا اور آخر ایک دن وہ ذلیل ہو کر رہے گا۔" الفضل ۲۳- مارچ ۱۹۴۰ء) اسی حقیقت کی نشان دہی کرتے ہوئے جلسہ سالانہ خلافت جو بلی (۱۹۳۹) کی تقریر میں بطور تحدیث نعمت آپ فرماتے ہیں:۔میں وہ تھا جسے احمق اور نادان قرار دیا جاتا تھا۔مگر عہدہ خلافت کو سنبھالنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر قرآنی علوم اتنی کثرت کے ساتھ کھولے کہ اب قیامت تک امت مسلمہ اس بات پر مجبور ہے کہ میری کتابوں کو پڑھے اور ان سے فائدہ اٹھائے۔وہ کونسا اسلامی مسئلہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ نہیں کھولا۔مسئلہ نبوت، مسئله کفر مسئلہ خلافت، مسئله تقدیر قرآنی ضروری امور کا انکشاف اسلامی اقتصادیات اسلامی سیاست اور اسلامی معاشرت وغیرہ پر تیرہ سو سال سے کوئی وسیع مضمون موجود نہیں تھا۔مجھے خدا نے اس خدمت دین کی توفیق دی اور اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ہی ان مضامین کے متعلق قرآن کے معارف کھولے جن کو آج دوست دشمن سب نقل کر رہے ہیں۔مجھے کوئی لاکھ گالیاں دے، مجھے لاکھ برا کہے جو