سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 421
۴۲۱ شخص اسلام کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے لگے گا اسے میرا خوشہ چیں ہونا پڑے گا اور وہ میرے احسان سے کبھی باہر نہیں جا سکے گا۔پیغامی ہو یا مصری ان کی اولاد میں جب بھی خدمت دین کا ارادہ کریں گی وہ اس بات پر مجبور ہونگی کہ وہ میری کتابوں کو پڑھیں اور ان سے فائدہ اٹھائیں۔بلکہ میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ اس بارہ میں سب خلفاء سے زیادہ مواد میرے ذریعہ جمع ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔پس مجھے یہ لوگ خواہ کچھ کہیں خواہ کتنی بھی گالیاں دیں ان کے دامن میں اگر قرآن کے علوم پڑیں گے تو میرے ذریعہ ہی اور دنیا ان کو یہ کہنے پر مجبور ہوگی کہ اے نادانو ! تمہاری جھولی میں جو کچھ بھرا ہوا ہے وہ تم نے اس سے لیا ہے پھر اس کی مخالفت تم کس منہ سے کر رہے ہو۔" (خلافت راشده صفحه ۲۵۴) حضرت فضل عمر نے حضرت حکیم حافظ مولانا نور الدین خلیفہ المسیح الاول سے قرآن مجید و حدیث کا علم حاصل کیا تھا۔تاہم تدریس کا یہ کوئی باقاعدہ سلسلہ نہیں تھا بلکہ بسا اوقات حضرت خلیفة المسیح الاول خود کتاب پڑھتے جاتے اور عاشق قرآن استاد کا یہ عاشق اسلام شاگر د سن رہا ہوتا۔یہ طریق تعلیم ویسے تو حضرت محمود کی کمزور صحت کی بناء پر اختیار کیا جاتا تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ اس موعود فرزند کے عظیم مقام و مرتبہ کی وجہ سے اس سلسلہ میں زیادہ محنت کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی۔حضرت فضل عمر فرماتے ہیں:۔اگر دل پاکیزہ ہو خدا تعالیٰ سے تعلق ہو تو خدا تعالیٰ قرآن کریم کے علوم خود سکھاتا ہے۔چنانچہ ایک وہ وقت بھی آیا کہ جب میں حج کیلئے جانے لگا تو حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔میں نے کبھی پہلے یہ بات ظاہر نہ کی تھی تاکہ تمہاری ترقی میں روک نہ ہو۔اب ظاہر کرتا ہوں کہ یوں تو میں نے تمہیں قرآن پڑھایا لیکن کئی معارف قرآنیہ تم سے سنے اور یاد رکھے اور اس طرح تم سے قرآن پڑھا۔اب چونکہ تم جارہے ہو اس لئے سنا دیا ہے کہ شاید پھر ملاقات ہو یا نہ ہو۔تو میرا دعویٰ ہے کہ دنیا کا کوئی شخص اٹھے جو کہے کہ میں قرآن کے معارف اور حقائق بیان کرنے میں مقابلہ کرنا چاہتا ہوں تو میں اس سے مقابلہ کیلئے تیار ہوں۔وہ خود تسلیم کرے یا نہ کرے دنیا اور حقائق پسند دنیا تسلیم کرے گی کہ جو حقائق و معارف میں نے بیان کئے ہوں گے وہ بہت بڑھ کر ہوں گے۔(الفضل ۵ فروری ۱۹۲۹ء)