سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 419
۴۱۹ تقدیر و منشاء کے مطابق آپ کے مسیحی نفس کی برکت سے دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ ظاہر ہوا اور حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ ظاہر ہوا اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگنے پر مجبور ہوا۔جہاں تک حضور کی ظاہری تعلیم کا تعلق ہے اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل دلچسپ مکالمہ بہت حقیقت افروز ہے۔حضور فرماتے ہیں۔ایک دفعہ لاہور میں دو شخص مجھ سے ملنے آئے ایک نے دریافت کیا کہ آپ نے کس مدرسہ میں تعلیم پائی ہے ؟ اس کا مطلب دیو بند و غیرہ علمی مدارس سے تھا۔میں نے کہا کسی مدرسہ میں نہیں۔اس نے کہا کسی سے کوئی سند حاصل کی ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔پھر اس نے کہا کہ کون کون سے علوم پڑھے ہیں ؟ میں نے کہا کوئی نہیں۔اس کی غرض ان سوالات سے صرف یہ تھی کہ ظاہر کرے کہ یہ تو جاہل آدمی ہے اس سے ہم کیا گفتگو کریں۔میں اسے یہ جواب بھی دے سکتا تھا کہ تمہیں ان سوالات کا کیا حق ہے۔مگر وہ پوچھتا گیا اور میں جواب دیتا گیا۔دوست بیٹھے تھے اور وہ ایسے سوالات کرنے سے اسے روکنا بھی چاہتے تھے۔مگر میں نے کہا نہیں پوچھنے دو۔اس نے اپنے ساتھی سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ تو خود مانتے ہیں کہ جاہل ہیں پھر ان سے کیا سوال کریں۔میں نے کہا کہ ایک سوال آپ نے نہیں کیا وہ بات میں خود بتا دیتا ہوں۔وہ کہنے لگے کیا میں نے کہا میں انگریزی مدرسہ میں پڑھتا تھا اور پرائمری میں بھی فیل ہوا اور مڈل میں بھی اور انٹرنس میں بھی مگر ان سب باتوں کے باوجود میں ایک چیز پڑھا ہوا ہوں۔میں نے وہ پڑھا ہے جو محمد ( ) نے پڑھا تھا اور میں نے قرآن کریم پڑھا ہے۔گو محمد رسول اللہ ( م ) کا مقام اعلیٰ تھا اور میرا ادنی، بے شک میں نے دنیا کا کوئی علم نہیں پڑھا مگر نہ پڑھنے کے باوجود میرا دعویٰ ہے کہ دنیا کا کوئی علم نہیں کہ جس کے رو سے قرآن کریم یا اسلام پر اس کا کوئی بڑے سے بڑا ماہر کوئی اعتراض کرے اور میں اس کا جواب نہ دے سکوں۔یہ بات سن کر اس شخص کے ساتھی نے کہا کہ میں نے تم کو اشارہ کیا تھا کہ ان کے جواب میں کوئی اور بات ہے اور میں نے تمہیں پہلے ہی منع کیا تھا کہ یہ سوالات نہ کرو۔مجھے اقرار ہے کہ میرے پاس کوئی سند نہیں۔مگر پھر بھی میرا یہ دعویٰ ہے کہ مجھے قرآن کریم آتا ہے جو چاہے میرے اس دعویٰ کو پرکھ لے۔میں نے کبھی کسی سے یہ نہیں کہا کہ مجھے