سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 375 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 375

۳۷۵ نے تمہیں اختیار دیا ہے کہ اگر چاہو تو شیر بن جاؤ جو جنگل میں اکیلا بھی محفوظ ہوتا ہے لیکن بھیڑیں دس میں بھی غیر محفوظ ہوتی ہیں پس اس کے لئے کوشش کرو اور دعاؤں میں لگے رہو۔میں بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی لغو عادتوں کو دور کرنے کی توفیق دے اور توفیق دے کہ تم محنتی اور بہت کام کرنے والے بن جاؤ۔اپنے اوقات کو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے خرچ کرنے والے ہو جاؤ تا تھوڑے ہو کر بہتوں پر غلبہ حاصل کرنے والے بن سکو۔" الفضل ۳۔فروری ۱۹۳۷ء) حضرت ام متین مریم صدیقہ حرم محترم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اپنے ایک مضمون میں حضور کی بعض وصایا کا اجمالی ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتی ہیں کہ :۔جب ۱۹۱۸ء میں شدید انفلوئنزا کا حملہ ہو کر بیمار ہوئے تھے اور اپنی وصیت شائع کروائی تھی اس میں بھی یہ وصیت فرمائی تھی کہ ”بچوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم ایسے رنگ میں دلائی جائے کہ وہ آزاد پیشہ خدمت دین کر سکیں۔جہاں تک ہو سکے لڑکوں کو حفظ قرآن کرایا جائے۔" مئی ۱۹۵۹ء میں جب بیماری کا دوبارہ حملہ ہوا اس وقت بھی ایک وصیت کی تھی اس میں بھی یہی تاکید تھی کہ :۔وہ ہمیشہ اپنی کوششوں کو خدا اور اس کے رسول کے لئے خرچ کرتے رہیں۔خدا کرے قیامت تک وہ اس نصیحت پر عمل کریں اور اللہ تعالی اس دنیا میں ان کو قیامت تک اسلام کا سچا خادم بنائے اور اسلام کے ہر دشمن کے لئے حق کا ایک زبر دست پنجہ ثابت ہوں اور ان کی زندگیوں میں کوئی شخص اسلام کو ٹیڑھی نظر سے نہ دیکھ (الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۶۶ء صفحہ ۶) "E حضور نے ۱۹۳۹ء میں ایک عہد کیا تھا جو حضور کی ایک نوٹ بک میں جو حضور عموماً اپنے کوٹ کی اندر کی جیب میں زیاد داشت وغیرہ لکھنے کے لئے رکھا کرتے تھے آپ کے قلم سے درج ہے اور وہ یہ ہے۔" آج چودہ تاریخ کو (مئی ۱۹۳۹ء) میں مرزا بشیر الدین محمود احمد اللہ تعالیٰ کی قسم اس پر کھاتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل سیدہ سے جو بھی اپنی زندگی سلسلہ کی خدمت میں خرچ نہیں کر رہا میں اس کے گھر کا کھانا نہیں کھاؤں گا اور اگر