سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 374 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 374

۳۷۴ دسواں حصہ میرے ورثاء صدرانجمن احمدیہ کے حوالے کر دیا کریں تا کہ وہ اشاعت اسلام کے کام پر خرچ کیا جائے۔مگر یہ شکریہ بھی کافی نہیں۔ایک کام جماعت کا اور بھی ہے جو توجہ کا مستحق ہے اور جس کی طرف سے جماعت کے احباب اکثر غافل رہتے ہیں اور وہ اس کے غرباء ہیں۔سو میں یہ بھی وصیت کرتا ہوں کہ میری جائیداد کا ایک اور دسواں حصہ (جو قرض کے ادا کرنے کے بعد بچے) غرباء، مساکین تیائی اور بیواؤں کے لئے وقف ہو گا۔پس میری جائیداد کی جو بھی آمد ہو کم یا زیادہ اس میں سے دسواں حصہ سلسلہ کے مساکین ، غربا، بتائی اور بیواؤں کی امداد کے لئے خرچ کیا جائے۔اس رقم کو خرچ کرنے کے لئے میں ایک کمیٹی تجویز کرتا ہوں۔جس میں دو نمائندے میرے ورثاء کی طرف سے ہوں اور ایک خلیفہ وقت کی طرف سے وہ باہمی مشورہ سے مذکورہ بالا مستحقین پر اس رقم کو خرچ کریں۔اگر کبھی اختلاف ہو تو خلیفہ وقت کا فیصلہ اس بارہ میں ناطق ہو گا۔میں اپنی اولاد سے امید کرتا ہوں۔کہ وہ اپنی زندگیوں کو دین کے لئے خرچ کریں گے۔اور دنیاوی ترقیات کو دین کی ضرورتوں پر قربان کریں گے۔میرا ارادہ اپنی بقیہ جائیداد کو وقف علی الاولاد کرنے کا ہے جس کے لئے میں الگ قواعد مقرر کروں گا۔اس صورت میں اگر کسی وقت میری اولاد باقی نہ رہے یا میری جائیداد سے فائدہ نہ اٹھا سکے تو کل جائیداد یا اس کا کوئی جزو جس پر بھی اس کا اثر ہو وہ سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ ہمارا انجام بخیر کرے اور ہمیں اپنی رضاء پر چلنے کی توفیق دے اور ما را مرنا جینا اسی کے لئے ہو۔آمین۔اللھم آمین" (خاکسار مرزا محمود احمد ۲۳ ماه و فا۱۳۱۹ھ ) ۱۹۳۷ء میں نئے سال کے آغاز پر محنت اور قربانی کی محنت اور قربانی کی عادت ڈالیں عادت ڈالنے کی نصیحت کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔یاد رکھو کہ ہمارے لئے بہت نازک وقت آ رہا ہے۔۔۔۔اپنی اصلاح کر لو محنت اور قربانی کی عادت ڈالو ورنہ تمہاری حالت اس بھیڑ کی سی ہو گی جو ہر وقت بھیڑیے کے رقم پر ہے جب تک تم بہت کوشش اور استقلال سے اپنے آپ کو شیروں میں تبدیل نہیں کر لیتے اس وقت تک تم بھیڑیں ہو جن کی جانیں ہر وقت غیر محفوظ ہیں۔خدا تعالیٰ