سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 376
٣٧٦ مجبوری یا مصلحت کی وجہ سے ایسا کرنا پڑے تو میں ایک روزہ بطور کفارہ رکھوں گا یا پانچ روپے بطور صدقہ ادا کروں گا یہ عہد سر دست ایک سال کے لئے ہو گا۔" (الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۶۷ء صفحہ ۷) اسلام پر عمل کرنا عادت میں شامل کریں تعلیم الاسلام ہائی سکول میگزین کے اجراء پر حضور نے اپنے پیغام میں جو اس میگزین کی پہلی اشاعت میں شائع ہوا اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا۔" مجھے تعلیم الاسلام ہائی سکول کا ایک سابق طالب علم ہونے کی حیثیت سے دو ہری خوشی ہے کہ سکول کے طلبہ ایک رسالہ اپنے اندر کام کا جوش پیدا کرنے کے لئے نکالنے لگے ہیں۔میرے نزدیک یہ رسالہ مفید ہو سکتا ہے اگر طالب علم اس کا پورا بوجھ خود اٹھا ئیں اور اسے ایک سکول میگزین سے زیادہ حیثیت نہ دیں۔میں جب چھوٹا تھا تو ہم نے ایک رسالہ تشحیذ الا زبان نکالا تھا اور صرف ہم سات طالب علم اس رسالہ کو شائع کرتے تھے اور کسی سے مدد طلب نہیں کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ رسالہ اپنوں کے علاوہ غیروں میں بھی مقبول تھا۔۔۔۔۔۔۔اسلام اس وقت بالکل لاوارث ہے خدا تعالیٰ نے تم کو چنا ہے کہ تم اس کے وارث بنو وہ اس وقت پامال ہے خدا تعالیٰ نے تم کو چنا ہے کہ تم اس کے حامل بنو “ وہ اس وقت بے یار ہے خدا تعالیٰ نے تم کو چنا ہے کہ تم اس کے یار بنو وہ اس وقت بے وطن ہے خدا تعالیٰ نے تم کو چنا ہے کہ تمہارے دل اور تمہارے گھر اس کا وطن بنیں تم زبانوں سے کئی دفعہ کہہ چکے ہو کہ ایسا ہو گا مگر (اب) دقت ہے کہ ہمارے عمل بھی اس کا ثبوت دیں۔۔۔زندگی کے ہر شعبہ میں اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرو اور اس کی تعلیم کو لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرو تاکہ یہ امر تمہاری عادت میں داخل ہو جائے اور آپ ہی آپ ایسے اعمال ظاہر ہوتے چلے جائیں جو تعلیم الاسلام کے ظاہر کرنے والے ہوں اور آپ ہی آپ وہ کلمات نکلنے شروع ہو جائیں جو تعلیم الاسلام کی گونج پیدا کرنے والے ہوں اور آپ ہی آپ وہ ملفوظات قلم پر آنے لگیں جو تعلیم الاسلام کا رنگ رکھتے ہوں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور اگر بچے دل سے کوشش کرو گے تو انشاء اللہ ایسا ہی ہو گا۔" ( تعلیم الاسلام میگزین)