سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 273
۲۷۳ حضرت صاحب کے مذکورہ بالا بیان کو درج کرنے کے بعد مشہور مؤرخ سید رئیس احمد جعفری اپنی کتاب " قائد اعظم اور ان کا عہد میں بڑے چھتے ہوئے انداز میں لکھتے ہیں۔مسلم قوم کی مرکزیت ، پاکستان ، یعنی ایک آزاد اسلامی حکومت کے قیام کی تائید ، مسلمانوں کے پاس انگیز مستقبل پر تشویش ، عامتہ المسلمین کی صلاح و فلاح نجاح و مرام کی کامیابی ، تفریق بین المسلمین کے خلاف برہمی اور غصہ کا اظہار کون کر رہا ہے ؟ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور جماعت حزب اللہ کا داعی اور امام الہند ؟ نہیں! پھر کیا جانشین شیخ الہند اور دیو بند کا شیخ الحدیث ؟ وہ بھی نہیں ! پھر کون ؟ وہ لوگ جن کے خلاف کفر کے فتووں کا پشتارہ موجود ہے۔جن کی نا مسلمانی کا چر چا گھر گھر ہے جن کا ایمان ، جن کا عقیدہ مشکوک ، مشتبہ اور محل نظر ہے کیا خوب کہا ہے ایک شاعر نے : کامل اس فرقہ زہاد سے اُٹھا نہ کوئی کچھ ہوئے تو یہی رندان قدح خوار ہوئے"۔( قائد اعظم اور ان کا عہد صفحہ ۴۲۱۔ایڈیشن ۱۹۶۲ء۔اشرف پر میں لاہو ر ) حضرت صاحب کا مندرجہ ذیل خط جو ایک احمدی کے استفسار کے جواب میں لکھا گیا تھا۔قائد اعظم کی طرف سے پریس میں بھیجوایا گیا۔" آپ کو موجودہ انتخابات میں مسلم لیگ کی حمایت کرنی چاہئے۔جس طرح بھی ممکن ہو مسلم لیگ سے تعاون کریں اور مسلم لیگ کی ہر ممکن مدد کریں۔مسلمانوں کو موجودہ بحران میں ایک متحدہ محاذ کی شدید ضرورت ہے۔اگر ان کے اختلافات موجود رہے تو صدیوں تک ان کے برے اثرات کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔" جیسے جیسے انتخابات کا زمانہ قریب آتا گیا۔حضور کی توجہ اور دلچسپی بھی بڑھتی چلی گئی اور آپ نے کمال حکمت و دور اندیشی سے پوری منصوبہ بندی کرتے ہوئے مسلم مفاد کے اس عظیم معرکہ کو سر کیا۔صوبہ سرحد میں خان برادران کے اثر سرخپوش تحریک اور کانگریس کی وجہ سے فضا مسلم لیگ کے خلاف تھی۔قائد اعظم کو ملک کے اس حصہ میں جہاں غیر مسلمان بستے تھے کام کرنے مخلص کارکن مل گئے جن میں جماعت احمدیہ کے افراد اپنے امام کی مندرجہ ذیل ہدایت پر بدل و جان عمل کر رہے تھے۔اس وقت سرحد میں لیگ منسٹری کو مضبوط کرنا ہے کسی طرح کا نگر میں کو ضرور