سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 274
۲۷۴ ९९ نکالنا چاہئے۔" وا صوبہ سرحد حضور کی نظر میں کئی وجوہ سے خاص اہمیت رکھتا تھا آپ فرماتے ہیں:۔صوبہ سرحد گو یا ہندوستان کی چھاؤنی ہے اس میں مسلمانوں میں اختلاف کو میں بالکل مناسب نہیں سمجھتا اور ہر احمدی سے امید کرتا ہوں کہ۔۔۔۔۔۔۔صوبہ سرحد کی مرکزی لیگ کی شاخ کے مقرر کردہ امیدوار کی حمایت کرے۔اس کے حق میں ووٹ دے اور اپنے زیر اثر لوگوں سے اسے ووٹ دلوائے اور اس کے حق میں اپنے علاقہ میں پورے زور سے کارروائی کرے۔" (الفضل یکم فروری ۱۹۴۶ء) یہاں تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں مگر تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ انتہائی مخالف حالات کے باوجود سرحد سے کانگریس کو نکلنا پڑا اور مسلم لیگ کو غیر معمولی کامیابی ہوئی۔سندھ کی جماعت نے حضور کی خدمت میں مسلم لیگ کی بعض انتظامی خامیوں کا ذکر کر کے رہنمائی کی درخواست کی تو اس پر بھی حضور نے یہی فرمایا۔بہر حال مسلم لیگ کو ووٹ دینے ہیں" ہندوستان کے ایسے صوبوں جہاں مسلمانوں کی اکثریت نہ تھی اور ان کے پاکستان میں شامل ہونے کا کوئی امکان نہ تھا کے متعلق بھی مسلم مفاد عامہ کو مد نظر رکھتے ہوئے حضور کا یہی ارشاد تھا کہ :۔لیگ کی ہر طرح مدد کریں اور اپنے ووٹ بھی دیں اور جن جن پر اثر پڑ سکتا ہو ان سے بھی دلوائیں۔بنگال ، یو پی سی پی اور بمبئی وغیرہ میں ووٹ مسلم لیگ کو دیئے (الفضل ۲۷۔فروری ۱۹۴۶ء) جائیں۔" خدا تعالیٰ کے فضل سے ہندو اور ان کے وظیفہ خوار سدھائے ہوئے پرندوں " کی خواہشات اور کوششوں کے بر عکس مسلم لیگ کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی اور قیام پاکستان کے رستہ کی ایک بہت بڑی روک دور ہو گئی۔اس مقام پر قائد اعظم کے معتمد ساتھی رفیق کار پرانے مسلم لیگی سردار شوکت حیات کا وہ بیان جو انہوں نے اپنی کتاب The Nation that Lost its Soul p147 میں تحریر کیا ہے خالی از دلچسپی نہ ہو گا وہ لکھتے ہیں کہ میں پنجاب بھر میں مسلم لیگ کے جلسے کر رہا تھا جب میں ایسے ہی ایک جلسہ کے لئے بٹالہ پہنچا تو مجھے قائد اعظم کا پیغام ملا کہ تم بٹالہ جا رہے ہو قادیان وہاں سے چند میل کے فاصلہ پر ہے تم وہاں جا کر حضرت صاحب کو میری طرف سے دعا کی درخواست کرو اور پاکستان کے قیام کے سلسلہ میں مدد کرنے کو کہو۔