سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 122
۱۲۲ " یہ دعا حضور نے چناب کا پل گزر کر اور قبلہ رخ ہو کر ربوہ کی سرزمین کے کنارے پر کھڑے ہو کر کئی دفعہ نہایت سوز اور رقت کے ساتھ دہرائی اور اس کے بعد موٹروں میں بیٹھ کر آگے روانہ ہوئے کیونکہ ربوہ کی موجودہ بستی چناب کے پل سے قریباً دو میل آگے ہے۔اس عرصہ میں بھی سب دوست او پر کی دعا کو مسلسل دہراتے چلے گئے۔جب ربوہ کی بستی کے سامنے موٹریں پہنچیں تو اس وقت ربوہ اور اس کے گردو نواح کے سینکڑوں دوست ایک شامیانے کے نیچے حضرت صاحب کے استقبال کے لئے جمع تھے۔اس وقت جب کہ عین ڈیڑھ بجے کا وقت تھا سب کے آگے حضور کی موٹر تھی اس کے بعد ہماری موٹر تھی اس کے بعد غالبا سیدہ بشری بیگم صاحبہ مہر آپا کی موٹر تھی اس کے بعد حضرت صاحب کی صاحبزادیوں کی موٹر تھی اور اس کے بعد غالبا محترمی شیخ بشیر احمد صاحب کی موٹر تھی۔" جب حضرت صاحب اپنی موٹر سے اترے تو ربوہ کے چند نما ئندہ دوست جن میں محترم مرزا عزیز احمد صاحب ایم اے ناظر اعلیٰ اور محترم سید ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور عامه و امیر مقامی اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور عزیز ڈاکٹر منور احمد سلمہ اللہ اور بعض ناظر صاحبان اور تحریک جدید کے وکلاء صاحبان اور محترم مولوی ابو العطاء صاحب وغیرہ شامل تھے آگے آئے اور حضور کے ساتھ مصافحہ کر کے حضور کو اس شامیانہ کی طرف لے گئے جو چند گز مغرب کی طرف نصب شدہ تھا اور جس میں دو سرے سب دوست انتظار کر رہے تھے۔حضرت صاحب اس وقت بھی رَبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ والى وعاد مرا رہے تھے اور دوسروں کو بھی ہدایت فرماتے تھے کہ میرے ساتھ ساتھ دعادُہراتے جاؤ۔شامیانے کے نیچے پہنچ کر حضرت صاحب نے وضو کیا اور پھر سب دوستوں کے ساتھ قبلہ رخ ہو کر حضور نے ایک مختصری تقریر فرمائی۔جس میں فرمایا کہ میں امید رکھتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہجرت کی سنت کو سامنے رکھ کر آپ لوگ رستہ تک آگے آکر استقبال کریں گے تاکہ ہم سب متحدہ دعاؤں کے ساتھ ربوہ کی سرزمین میں داخل ہوتے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا اس لئے اب میں اس کمی کو پورا کرنے کے لئے پھر اس دعا کو دُہراتا ہوں اور سب دوست بلند آواز سے میرے پیچھے اس دعا کو دُہراتے