سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 123
١٢٣ جائیں چنانچہ آپ نے شاید تین یا پانچ دفعہ رَبِّ ادْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ اور قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ والی دعا برائی۔اور سب دوستوں نے بلند آواز سے آپ کی اتباع کی۔اس کے بعد حضرت صاحب نے مختصر طور پر اس دعا کی تشریح فرمائی۔کہ یہ دعا وہ ہے جو مدینہ کی ہجرت کے وقت آنحضرت میں ہم کو سکھلائی گئی تھی اور اس میں اَدْخِلْنِى ( مجھے داخل کر) کے الفاظ کو آخرِجُنِی ( مجھے نکال) کے الفاظ پر اس لئے مقدم کیا گیا ہے تاکہ اس بات کی طرف اشارہ کیا جائے کہ مدینہ میں داخل ہو کر رک جانا ہی آنحضرت میں ولیم کی ہجرت کی غرض نہیں ہے بلکہ یہ صرف ایک درمیانی واسطہ ہے اور اس کے بعد پھر مدینہ سے نکل کر مکہ کو واپس حاصل کرنا اصل مقصد ہے اور پھر اس کے ساتھ قُلْ جَاءَ الْحَقُّ والی دعا کو شامل کیا گیا تاکہ اس بات کی طرف اشارہ کیا جائے کہ مومن کی ہجرت حقیقتاً اعلاء کلمتہ اللہ کی غرض سے ہوتی ہے نیز اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ محمد رسول اللہ لی لی لی لی لیک کی ہجرت خدا کے فضل سے مقبول ہوئی ہے کیونکہ خدا نے اس کے ساتھ ہی حق کے قائم ہونے اور باطل کے بھاگنے کے لئے دروازہ کھول دیا ہے اور پھر اسی تمثیل کے ساتھ حضور ایدہ اللہ نے قادیان کا ذکر کیا کہ ہم بھی قادیان سے نکالے جاکر ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔مگر ہمارا یہ کام نہیں کہ اپنی ہجرت گاہ میں ہی دھرنا مار کر بیٹھ جائیں بلکہ اپنے اصل اور دائمی مرکز کو واپس حاصل کرنا ہمارا اصل فرض ہے۔اس تقریر کے بعد جس میں ایک طرف موٹروں میں بیٹھے بیٹھے مستورات بھی شریک ہوئی تھیں حضور اپنی ربوہ کی عارضی فرودگاہ میں تشریف لے گئے جو ریلوے سٹیشن کے قریب تعمیر کی گئی ہے۔میں نے اس فرودگاہ کو عارضی فرودگاہ اس لئے کہا ہے کہ اب تک جتنی بھی عمارتیں ربوہ میں بنی ہیں وہ دراصل سب کی سب عارضی ہیں اور اس کے بعد پلاٹ بندی ہونے پر مستقل تقسیم ہوگی اور لوگ اپنے اپنے مکان بنوائیں گے۔حضرت صاحب کے مکان میں ربوہ کی مستورات استقبال کی غرض سے جمع تھیں جن کی قیادت ہماری ممانی سیده ام داؤد صاحبہ فرما رہی تھیں۔اس کے بعد حضرت صاحب اور دوسرے عزیزوں اور اہل قافلہ نے کھانا کھایا جو صدرانجمن احمدیہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لنگر خانہ کی طرف سے پیش کیا تھا۔غالبا ر بوه وارد