سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 121 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 121

لَّدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا (بنی اسرائیل (۸۱) چنانچہ اس دعا کے ورد کے ساتھ قافلہ روانہ ہوا۔اور رستہ میں بھی یہ دعا برابر جاری رہی۔چونکہ روانگی میں دیر ہو گئی تھی اس لئے موٹریں کافی تیز رفتاری کے ساتھ گئیں اور سفر کا آخری حصہ تو غالبا ستر پچھتر میل فی گھنٹہ کی رفتار سے طے ہوا ہو گا اور اسی غرض سے رستہ میں کسی جگہ ٹھرا بھی نہیں گیا۔یہی وجہ ہے کہ محترم شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور کی موٹر جو لاہور سے قریبا ڈیڑھ گھنٹہ پہلے روانہ ہوئی تھی اور اس میں محترمی مولوی عبد الرحیم درد صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔وہ ہمیں رستہ میں ہی ربوہ کے قریب چناب کے پل پر مل گئی تھی یہ گویا اس سفر کی پانچویں موٹر تھی۔اس کے علاوہ ایک چھٹی موٹر بھی تھی جس میں محترمی ملک عمر علی صاحب رئیس ملتان اور ہمارے بعض دوسرے عزیز بیٹھے تھے لیکن چونکہ یہ موٹر بعد میں چلی اور زیادہ رفتار بھی نہیں رکھ سکی اس لئے وہ حضور کے ربوہ میں داخل ہونے کے کچھ عرصہ بعد پہنچی۔چناب کامل گزرنے کے بعد جس سے آگے ربوہ کی سرزمین کا آغاز ہوتا ہے۔حضور اپنی موٹر سے اُتر آئے اور دوسرے سب ساتھی بھی اپنی اپنی موٹروں سے اُتر آئے۔البتہ مستورات موٹروں کے اندر بیٹھی رہیں، اس جگہ اتر کر بعض دوستوں نے اعلان کی غرض سے اور اہل ربوہ تک اطلاع پہنچانے کے خیال سے ریوالور اور راکفل کے کچھ کارتوس ہوا میں چلائے اس کے بعد حضور نے اپنے رفقاء میں اعلان فرمایا کہ میں یہاں قبلہ رخ ہو کر مسنون دعا کرتا ہوں اور ہمارے دوست بھی اس دعا کو بلند آواز سے دہراتے جائیں اور مستورات بھی اپنی اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے یہ دعاد ہرا ئیں۔اس کے بعد حضور نے ہاتھ اونچے کر کے یہ دعا کرنی شروع کی۔رَبِّ ادْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ قَ اخْرِجُنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِى مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بنی اسرائیل: ۸۲٬۸۱) یعنی اے میرے رب ! مجھے اس بستی میں اپنی بہترین برکتوں کے ساتھ داخل کر اور پھر اے میرے آقا ! مجھے اس بستی سے نکال کر اپنی اصل قیام گاہ کی طرف اپنی بہترین برکتوں کے ساتھ لے جا۔اور اے مومنو اتم خدا کی برکتوں کو دیکھ کر اس آواز کو بلند کرو کہ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل کے لئے تو بھاگنا ہی مقدر ہو چکا ہے۔