سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 119 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 119

119 ہر اول دستہ۔جامعہ احمدیہ - خدائی مشیت قرار دیتے ہوئے فرمایا۔۲۹۔نومبر ۱۹۴۸ء کو حضور احمد نگر تشریف لے گئے اور جامعہ احمدیہ کے احمد نگر میں قائم و جاری ہونے کو خاص تم لوگ ہر اول دستے کے طور پر آئے ہو اور تم لوگ جنہوں نے اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کی ہوئی ہیں حضرت اسماعیل کی اس اولاد کی طرح ہو جنہوں نے وادی غیر ذی زرع میں بستی کو آباد کیا تھا۔یہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہے۔تعلیم الاسلام کالج کو تولاہور میں جگہ مل گئی اور ہائی سکول کو چنیوٹ میں مکان مل گیا لیکن مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کو یہاں احمد نگر میں جگہ ملی جو ربوہ کا ہی حصہ ہے۔بلکہ یہ خدائی منشاء کے ماتحت ہے۔" حضور نے اس موقع پر بطور نصیحت جامعہ کے رجسٹر پر اپنے دست مبارک سے تحریر فرمایا :۔میں وہی کہتا ہوں جو رسول کریم میں اللہ نے جنگ احد کے موقع پر فرمایا۔اللہ أَعْلَى وَاجَلٌ (الفضل ۲۵- دسمبر ۱۹۴۸ء) نٹے مرکز کی زمین کے حصول کے بعد زہریلے سانپوں کے اس مسکن اور بنجر د چٹیل افتتاح ربوہ میدان کو عالمی جماعت احمدیہ کا مرکز بنانے کا ابتدائی کام ۱۹۔اپریل ۱۹۴۸ء کو شروع ہوا تھا۔اس جگہ کو آباد کرنے کی یہ پہلی کوشش نہیں تھی۔قبروں کے پرانے نشانات اور آثار یہ بتاتے ہیں کہ اس جگہ کو آباد کرنے کی پہلے بھی کوششیں کی جاچکی تھیں۔ایک ہندو سرمایہ دار کا ذکر بھی تاریخ میں موجود ہے جس نے اس جگہ کو آباد کرنے پر اپنا سرمایہ خرچ کیا مگرا سے بھی ناکامی سے ہی دو چار ہونا پڑا اور مشہور روایت کے مطابق اس ناکامی کا اسے اتنا شدید صدمہ پہنچا کہ وہ اپنا دماغی توازن ہی کھو بیٹھا۔زمین و آسمان کے مالک قادر خدا نے یہ کام تین کو چار کرنے والے مصلح موعود کے لئے مقدر کر رکھا تھا۔یا یوں کہہ لیجئے کہ اس جگہ کو آباد کرنے کیلئے سرمایہ یا دوسرے ظاہری سامانوں سے زیادہ تو کل علی اللہ اور پر سوز دعاؤں کی ضرورت تھی۔اسی سرمایہ کے ساتھ مگر بظاہر بے سرو سامانی اور بے بضاعتی کے ساتھ شروع ہونے والا یہ شہر دیکھتے ہی دیکھتے ایک معقول آبادی جس میں سکول ، مساجد ہسپتال ڈا کھانہ اور جماعتی دفا تر یعنی ابتدائی ضرورت کے وسائل میسر تھے منصہ شہود پر اُبھر آیا اور ۱۹۔ستمبر ۱۹۴۹ء کو اس جگہ مستقل رہائش کیلئے ہمارے پیارے امام حضرت فضل عمر بھی تشریف لے آئے۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے حضرت