سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 118
||A کونوں میں حضرت مولوی عبدالرحیم درد صاحب، حضرت مولوی محمد عبد اللہ صاحب بو تالوی حضرت چوہدری برکت علی خان صاحب تحریک جدید اور مکرم چوہدری محمد صدیق صاحب مولوی فاضل نے ایک ایک بکرا ذبح کیا۔لاہور سے واپسی سے قبل حضور نے نماز عصر بھی اسی شامیانے میں ادا کی اور بعد نماز عصر جماعت چنیوٹ کی طرف سے پیش کیا گیا کھانا تناول فرمایا۔اس یادگار موقع پر جماعت کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنے ایک مضمون میں تحریر فرمایا۔" سلسلہ کی تاریخ میں ایک خاص یادگاری موقعہ تھا جس میں دو قسم کے بظاہر متضاد لیکن حقیقتاً ایک ہی منبع سے تعلق رکھنے والے جذبات کا ہجوم تھا۔ایک طرف نئے مرکز کے قیام کی خوشی تھی کہ خدا ہمیں اس کے ذریعہ سے پھر مرکزیت کا ماحول عطا کرے گا اور ہم ایک جگہ اکٹھے ہو کر اپنی تنظیم کے ماحول میں زندگی گزار سکیں گے اور دوسری طرف اس وقت قادیان کی یاد بھی اپنے تلخ ترین احساسات کے ساتھ دلوں میں جوش مار رہی تھی اور نئے مرکز کی خوشی کے ساتھ ساتھ ہر زبان اس ذکر کے ساتھ تازہ اور ہر آنکھ اس دعا کے ساتھ پر نم تھی کہ خدا ہمیں جلد تر اپنے دائمی اور عالمگیر مرکز میں واپس لے جائے۔" ا افضل ۲۲۔ستمبر ۱۹۴۸ء) اس سفر کے دوران حضور نے نئے مرکز کا نام " ربوہ " رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا۔" نئے مرکز کا نام ربوہ تجویز کیا گیا ہے جس کے معنی بلند مقام یا پہاڑی مقام کے ہیں یہ نام اس نیک فال کے طور پر تجویز کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ اس مرکز کو حق و صداقت اور روحانیت کی بلندیوں تک پہنچنے کا ذریعہ بنائے اور خدائی نور کا ایک ایسا بلند مینار ثابت ہو جسے دیکھ کر لوگ اپنے خدا کی طرف راہ پائیں۔اس کے علاوہ ظاہری لحاظ سے بھی یہ جگہ ایک ربوہ کا حکم رکھتی ہے کیونکہ وہ ارد گرد کے علاقہ سے اونچی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تو بعض چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں بھی ہیں گویا ایک پہلو میں چناب کا دریا ہے جو پانی ذریعہ حیات کا منظر پیش کرتا ہے اور دوسرے پہلو میں بعض پہاڑیاں ہیں جو بلندی کی علامت کی علمبردار ہیں۔" الفضل ۲۲۔ستمبر ۱۹۴۸ء)