سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 120 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 120

۱۲۰ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو جنہوں نے اس سفر کی تاریخی حیثیت و اہمیت کے پیش نظر لاہور سے ربوہ کا سفر حضور کی معیت میں کیا بلکہ اس سفر کی روئیداد اپنے مخصوص انداز میں تحریر فرمائی۔ہو آپ لکھتے ہیں :۔دراصل میرا دفتر ابھی تک لاہور میں ہے۔مگر میں نے اس سفر کی تاریخی اہمیت کو محسوس کر کے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں انشاء اللہ اس سفر میں حضرت صاحب کے ساتھ جاؤں گا اور سفر اور ربوہ کی دعا میں شریک ہو کر اسی دن شام کو لاہو رواپس پہنچ جاؤں گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس کی توفیق دی جس کے نتیجہ میں ذیل کی چند سطور ہدیہ ناظرین کرنے کے قابل ہوا ہوں۔حضور کا فیصلہ تو یہ تھا کہ انشاء اللہ ۱۹۔ستمبر ۱۹۴۹ء کو صبح ۸ بجے لاہور سے روانگی بیہ روانگی وقت مقررہ پر نہیں ہو سکی۔چنانچہ حضور آٹھ بجے صبح کی بجائے دس بج کر پچاس منٹ پر یعنی تقریبا گیارہ بجے رتن باغ لاہور سے بذریعہ موٹر روانہ ہوئے۔حضور کی موٹر میں حضور خود اور حضرت سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ اور شاید ایک دو بچیاں ساتھ تھیں اور حضور کے پیچھے دوسری موٹر میں حضرت صاحب کی بعض دوسری صاحبزادیاں اور ایک بہو اور بعض بچے اور میاں محمد یوسف صاحب پرائیویٹ سیکرٹری سوار تھے۔تیسری موٹر میں سیدہ بشری بیگم مر آیا صاحبہ اور محترمہ ام وسیم احمد صاحبہ اور بعض دوسرے بچے تھے اور ان کے پیچھے چو تھی موٹر میں خاکسار مرزا بشیر احمد اور میرے اہل و عیال اور عزیزہ آمنہ بیگم سیال اور محترمی چوہدری عبد الحمید صاحب سپرنٹنڈنٹ انجینئر اور میاں غلام محمد صاحب اختر اے پی او (A PO) سوار تھے۔شاہدرہ سے کچھ آگے نکل کر حضرت صاحب نے اپنی موٹر روک کر انتظار کیا کیونکہ ابھی تک تیسری موٹر نہیں پہنچی تھی اور کچھ وقت انتظار کرنے کے بعد آگے روانہ ہوئے۔ایک لاری اور دو ٹرک کافی عرصہ بعد روانہ ہوئے۔ر تن باغ سے روانہ ہونے سے پہلے حضور نے ہدایت فرمائی کہ سب لوگ رتن باغ سے روانہ ہوتے ہوئے اور پھر ربوہ کی سرزمین میں داخل ہوتے ہوئے یہ قرآنی دعا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کی ہجرت کے وقت سکھائی گئی تھی پڑھتے جائیں۔یعنی رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَاخْرِ جُنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِى مِنْ