سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 116 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 116

۱۱۶ نیا مرکز بھی دے دیا۔یہاں جس قسم کی مخالفت تھی اس کے لحاظ سے اس مرکز کا ملنا بھی اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت کا ایک کھلا ثبوت ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا کہ مخالفین کے اخباروں نے پیچھے شور مچایا اور ہمارا سودا پہلے طے ہو چکا تھا۔پھر اس قدر جھوٹ سے کام لیا گیا کہ اس زمین کے متعلق انہوں نے لکھا کہ حکومت کو پندرہ سو روپیہ فی ایکٹر مل رہا تھا اور کئی مسلمان انجمنیں اسے یہ روپیہ پیش کر رہی تھیں مگر حکومت نے یہ ٹکڑہ برائے نام قیمت پر احمدیوں کو دے دیا۔گویا ان کے حساب سے پندرہ لاکھ روپیہ اس ٹکڑے کا حکومت کو مل رہا تھا مگر حکومت نے اس کی پروا نہ کی۔جب مجھے اس کا علم ہوا تو میں نے فوراً اعلان کرا دیا کہ پاکستان کا اتنا نقصان ہم برداشت نہیں کر سکتے اگر اتنا روپیہ دے کر کوئی شخص یہ زمین خرید سکتا ہے تو وہ اب بھی ہم سے یہ زمین اتنی قیمت پر لے لے تو ہم یہ سارے کا سارا روپیہ حکومت پاکستان کو دے دیں گے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ پندرہ سو روپیہ فی ایکڑ تو کجا پندرہ روپیہ فی ایکڑ بھی کوئی شخص دینے کیلئے تیار نہیں تھا۔گورنمنٹ نے خود اپنے گزٹ میں اس کے متعلق متواتر اعلان کرایا مگر اسے پانچ روپے فی ایکڑ کی بھی کسی نے پیشکش نہ کی۔غرض اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت ہم قادیان سے باہر آئے ہیں اور اس کے منشاء کے ماتحت ہم یہاں ایک نیا مرکز بسانا چاہتے ہیں۔ہر چیز میں روکیں حائل ہو سکتی ہیں اس لحاظ سے ممکن ہے ہمارے اس ارادہ میں بھی کوئی روک حائل ہو جائے لیکن ہمارا ارادہ اور ہماری نیت یہی ہے کہ ہم پھر ایک مرکز بنا کر اسلام کے غلبہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت کی کوشش کریں اور اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کام میں ہمارا حامی و مددگار ہو۔ہم نے اس وادی غیر ذی زرع کو جس میں فصل اور سبزیاں نہیں ہوتیں اس لئے چنا ہے کہ ہم یہاں بسیں اور اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کریں۔مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ساری فصلیں اور سبزیاں اور ثمرات خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔پس اول تو ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی ہماری نیتوں کو صاف کرے اور ہمارے ارادوں کو پاک کرے۔اور پھر ہم اس سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ مکہ مکرمہ کے ظل کے طور پر اور مکہ مکرمہ کے موعود کے طفیل ہم کو بھی اس وادی میں ہر قسم کے ثمرات پہنچا دے گا۔ہماری روزیاں کسی بندے کے سپرد نہیں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اپنے پاس سے ہم کو کھلائے گا اور ہم اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ