سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 117 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 117

116 یہاں کے رہنے والوں میں دین کا انتا جوش پیدا کر دے دین کی اتنی محبت پیدا کر دے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا عشق پیدا کرے کہ وہ پاگلوں کی طرح دنیا میں نکل جائیں اور اس وقت تک گھر نہ لوٹیں جب تک دنیا کے کونے کونے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم نہ کر دیں۔بے شک دنیا کہے گی کہ یہ لوگ پاگل ہیں مگر ایک دن آئے گا اور یقیناً آئے گا۔یہ آسمان مل سکتا ہے یہ زمین مل سکتی ہے مگر یہ وعدہ نہیں مل سکتا کہ خدا ہمارے ہاتھ سے محمد رسول اللہ علیہ کی حکومت دنیا میں قائم کر دے گا اور وہ لوگ جو آج ہمیں پاگل کہتے ہیں شرمندہ ہو کر کہیں گے کہ اس چیز نے تو ہو کر ہی رہنا تھا آثار ہی ایسے نظر آرہے تھے جن سے ثابت ہو تا تھا کہ یہ چیز ضرور وقوع میں آکر رہے گی۔جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو سب لوگ پاگل کہتے تھے مگر اب عیسائی کہتے ہیں کہ اس وقت دنیا کے حالات ہی اس قسم کے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فتح ہوتی اور باقی مذاہب شکست کھا جاتے۔جس طرح پہلے عقل مند کہلانے والے لوگ پاگل ثابت ہوئے اسی طرح اب بھی عقل مند کہلانے والے لوگ ہی پاگل ثابت ہوں گے اور دنیا پر اسلام غالب آکر رہے گا۔آؤ اب ہم ہاتھ اٹھا کر آہستگی سے بھی اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ وہ ہمارے ارادوں میں برکت ڈالے اور ہمیں اس مقدس کام کو دیانتداری کے ساتھ سرانجام دینے کی توفیق بخشے۔" الفضل جلسہ سالانہ نمبر ۱۹۶۴ء) حضرت فضل عمر نے اس مؤثر اور رقت انگیز خطاب کے بعد لمبی دعا فرمائی اور فرمایا کہ :۔اب اس رقبہ کے چاروں کونوں میں قربانیاں کی جائیں گی اور ایک قربانی اس رقبہ کے وسط میں کی جائے گی یہ قربانیاں اس علامت کے طور پر ہوں گی کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنے بیٹے کی قربانی کیلئے تیار ہو گئے تھے اور خدا تعالٰی نے ان کی قربانی کو قبول فرما کر بکرے کی قربانی کا حکم دیا تھا اس طرح ہم بھی زمین کے چاروں گوشوں پر اور ایک اس زمین کے سنٹر میں اس نیت اور ارادہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور قربانیاں پیش کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں اور ہماری اولادوں کو ہمیشہ اس راہ میں قربان ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین" سرزمین ربوہ کے وسط میں حضور نے اپنے دست مبارک سے ایک بکرا ذبح فرمایا اور چاروں