سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 115 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 115

114 خاص طور پر نام لیا کہ وہاں بھی بڑی تباہی ہوئی ہے۔پھر انہوں نے کہا ہم نیلے گنبد میں داخل ہونے لگے تھے مگر ہمیں وہاں بھی داخل نہیں ہونے دیا۔اس وقت تک تو ہم صرف لاہور کا ہی نیلا گنبد سمجھتے تھے مگر بعد میں غور کرنے پر معلوم ہوا کہ نیلے گنبد سے مراد آسمان تھا اور مطلب یہ تھا کہ کھلے آسمان کے نیچے بھی مسلمانوں کو امن نہیں ملے گا۔چنانچہ لوگ جب اپنے مکانوں اور شہروں سے نکل کر ریفیوجی کیمپوں میں جمع ہوتے تھے تو وہاں بھی سکھ ان پر حملہ کر دیتے تھے اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو مار ڈالتے تھے۔اس رویا کے مطابق یہ جگہ مرکز کے لئے تجویز کی گئی ہے۔جب میں قادیان سے آیا تو اس وقت یہاں اتفاقاً چوہدری عزیز احمد صاحب احمدی سب جج لگے ہوئے تھے۔میں شیخوپورہ کے متعلق مشورہ کر رہا تھا کہ چوہدری عزیز احمد صاحب میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا میں نے اخبار میں آپ کی ایک اس رنگ کی خواب پڑھی ہے میں سمجھتا ہوں کہ چنیوٹ ضلع جھنگ کے قریب دریائے چناب کے پاس ایک ایسا ٹکڑا زمین ہے جو اس خواب کے مطابق معلوم ہوتا ہے۔چنانچہ میں یہاں آیا اور میں نے کہا ٹھیک ہے خواب میں جو میں نے مقام دیکھا تھا اس کے ارد گرد بھی اسی قسم کے پہاڑی ٹیلے تھے صرف ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ میں نے اس میدان میں گھاس دیکھا تھا مگر یہ چٹیل میدان ہے۔اب بارشوں کے بعد کچھ کچھ سبزہ نکلا ہے ممکن ہے ہمارے آنے کے بعد اللہ تعالی یہاں گھاس بھی پیدا کر دے اور اس رقبہ کو سبزہ زار بنا دے۔بہر حال اس رویا کے مطابق ہم نے اس جگہ کو چنا ہے اور یہ رویا وہ ہے جس کے ذریعہ چھ سال پہلے اللہ تعالیٰ نے ہمیں آئندہ آنے والے واقعات سے خبر دے دی تھی۔دنیا میں کون ایسا انسان ہے جس کی طاقت میں یہ بات ہو کہ وہ چھ سال پہلے آئندہ آنے والے واقعات بیان کر دے؟ انگریزوں کی حکومت کے زمانہ میں بھلا قادیان پر حملہ کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا تھا۔پھر قادیان کو چھوڑنا کس کے خیال میں آسکتا تھا۔کون خیال کر سکتا تھا کہ مسلمانوں پر ایک بہت بڑی تباہی آنے والی ہے اتنی بڑی کہ وہ اپنے شہروں اور گھروں سے نکل کر آسمان کے نیچے ڈیرے ڈالیں گے تو وہاں بھی وہ دشمن کے حملہ سے محفوظ نہیں ہوں گے۔مگر یہ تمام واقعات رونما ہوئے اور پھر اللہ تعالٰی نے اس رویا کے مطابق ہمیں ایک