سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 509 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 509

۵۰۹ اس خداداد منصب سے نہ تو خود الگ ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اور اسے اس منصب سے الگ کر سکتا ہے۔و پھر میں کہتا ہوں کسی کو خلیفہ ہونے سے فائدہ کیا ہے سوائے اس کے کہ لوگوں کے مصائب اور ان کی اصلاح کے لئے غم کھاتا اور کڑھتا رہے کہ کسی طرح جماعت کا جہاز پار ہو جائے۔خلافت اس سے زیادہ نہیں کہ وہ ایک مردم کش چیز ہے وہ کسی کے قتل کیلئے ایک نہایت سریع التاثیر آلہ ہے جو مضبوط اور جو ان سے جوان آدمی کو تھوڑے عرصہ میں مار دیتا ہے اور یہ ایک آزاد آدمی کو غلام بنا دیتی ہے اور گھن کی طرح اس کو کھا جاتی ہے۔باقی رہے خدا کے فضل اور احسانات وہ صرف خلافت کے ساتھ وابستہ نہیں۔بے شک روحانی فضل خلیفہ پر ہی ہوتے ہیں لیکن خدا کے فضلوں میں داخل ہونے کے لئے صرف یہی روحانی دروازہ نہیں۔۔۔۔میرے نزدیک خلافت کی عظیم الشان مشکلات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خلیفہ خلافت سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا وہ مجبور و معذور ہو تا ہے وہ اعتراض کرنے والوں کو عملی جواب نہیں دے سکتا خلیفہ ہی وہ شخص ہوتا ہے کہ جس کے ہاتھ بند ہوتے ہیں۔اس لئے دوسرے کے مکر کے جواب نہیں دے سکتا اس کی زبان بھی بند ہوتی ہے اور کسی شریف انسان کے نزدیک اس سے بڑھ کر اور کوئی کمینگی نہیں ہو سکتی کہ اس شخص حملہ کیا جائے جس کی زبان اور ہاتھ بند ہوں۔۔۔۔۔۔اگر خلیفہ کو دست بردار ہونے کا اختیار ہوتا تو کئی خلیفے ایسے ہوتے جو معترضوں کو کہہ دیتے کہ لو تم خلافت کو سنبھالو ہم الگ ہوتے ہیں لیکن چونکہ خلیفہ سے یہ اختیار چھین لیا جاتا ہے اس لئے خواہ کیسی حالت ہو وہ خلافت سے دستبردار ہونے کا خیال بھی نہیں کر سکتا۔(الفضل ۲۱۔دسمبر ۱۹۲۲ء) پچھلے صفحات میں حضرت فضل عمر کے جوار شادات نقل کئے گئے ہیں ان سے بلند روحانی نظام یہ امر بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ خلیفہ مقرر فرماتا ہے اگر چہ بظا ہر اس میں مومنوں کا ہی عمل دخل نظر آتا ہے اس طرح یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ خلیفہ کی اطاعت ضروری ہے اور یہ بھی کہ خلیفہ کی مخالفت کرنے والے ناکام ہوتے ہیں اور خلیفہ خدا تعالیٰ کی تائید