سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 510
۵۱۰ و نصرت سے مظفر و منصور ہوتا ہے۔اس جگہ خلافت کے موضوع پر کوئی علمی مضمون پیش کرنا مد نظر نہیں ہے بلکہ خلافت ثانیہ کے دوران پیش آنے والے واقعات اور ان کے تناظر میں قرآنی بصیرت و عرفان کے مطابق حضور کی رہنمائی اور ہدایات کا ذکر کیا جارہا ہے۔اس جگہ یہ سوال بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ خلیفہ کسی حال میں معزول نہیں کیا جا سکتا تو کیا وہ کوئی غلطی نہیں کر سکتا ؟ حضور اس سلسلہ میں ارشاد فرماتے ہیں۔میں اس بات کا قائل نہیں کہ خلیفہ کوئی غلطی نہیں کر سکتا۔مگر اس بات کا قائل ہوں کہ وہ کوئی ایسی غلطی نہیں کر سکتا جس سے جماعت تباہ ہو۔وہ اس اور اس کام میں غلطی کر سکتا ہے۔مگر سب کاموں میں غلطی نہیں کر سکتا۔اور اگر وہ کوئی ایسی غلطی کر بھی بیٹھے جس کا اثر جماعت کے لئے تباہی خیز ہو تو خدا تعالیٰ اس غلطی کو بھی درست کر دے گا۔اور اس کے نیک نتائج پیدا ہوں گے۔یہ عصمت کسی اور جماعت یا کسی اور مجلس کو حاصل نہیں ہو سکتی۔میں مانتا ہوں کہ خلفاء غلطی کرتے رہے۔اور اب بھی کر سکتے ہیں۔بعض اوقات میں فیصلہ کرتا ہوں جس کے متعلق بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ غلطی ہوئی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ غلطی سے زیادہ محفوظ کون ہے۔اجتہادی اور سیاسی غلطیاں تو رسول سے بھی ہو سکتی ہیں۔پھر خلیفہ ایسی غلطیوں سے کس طرح بچ سکتا ہے۔نبی اجتہاد کی غلطی کر سکتا ہے۔بحیثیت فقیہ غلطی کر سکتا ہے۔بحیثیت بادشاہ غلطی کر سکتا ہے۔لیکن بحیثیت نبی غلطی نہیں کر سکتا۔اور وہ باتیں جو نبی سے بحیثیت فقیہ اور بحیثیت حاکم تعلق رکھتی ہیں۔خلفاء ان میں نبی کے وارث ہوتے ہیں۔خلفاء نبی کی ہر بات کے وارث ہوتے ہیں سوائے نبوت کے۔اور جو احکام نبوت کے سوا نبی کے لئے جاری ہوتے ہیں وہی خلیفہ کے لئے جاری ہوتے ہیں۔۔بے شک خلفاء غلطی کر سکتے ہیں۔مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ان کے آگے سر تسلیم خم نہ کیا جائے تو کوئی جماعت جماعت نہیں رہ سکتی۔پس خلیفہ بھی غلطی کر سکتا ہے اور تم بھی غلطی کر سکتے ہو۔مگر فرق یہی ہے کہ خلیفہ کی خطرناک غلطی کی خدا تعالٰی اصلاح کر دے گا۔مگر آپ لوگوں سے خدا کا یہ وعدہ نہیں ہے۔" (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۵ء)