سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 422 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 422

۴۲۲ حضور کا معمول تھا کہ آپ جلسہ سالانہ کے موقع پر ایک افتتاحی خطاب فرماتے جس میں بالعموم جلسہ کی اہمیت جلسہ سے پوری طرح استفادہ کرنے کے متعلق نصائح اور افتتاحی دعا ہوتی جلسہ سالانہ کے دوسرے دن کی تقریر میں دوران سال اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے فضلوں اور انعامات کا تذکرہ ہو تا تھا۔جلسہ سالانہ کے آخری دن کسی علمی موضوع پر خطاب فرماتے تھے۔۱۹۲۴ء سے جلسہ سالانہ میں خواتین سے ایک الگ خطاب کا سلسلہ شروع ہوا جس میں بالعموم تربیتی مسائل کا بیان ہو تا تھا۔حضور کی یہ تقاریر جلسہ کی روح اور خاصے کی چیز ہوتی تھی۔سارا سال مخلصین جماعت جلسہ سالانہ کا بڑے اشتیاق سے انتظار کرتے اور جلسہ سالانہ کی دو سری بے شمار برکات و فوائد کے ساتھ ساتھ ان تقاریر کا بھی شدت سے انتظار ہو تا تھا۔آپ کی تقاریر کی یہ نمایاں خصوصیت تھی کہ بہت سادہ الفاظ میں بہت عام فہم انداز میں مشکل سے مشکل پر مسائل کو بیان فرماتے اور کئی کئی گھنٹوں کی تقریر میں بھی سامعین کی دلچسپی برابر قائم رہتی۔ہستی باری تعالٰی تعلق باللہ ملائکہ اور تقدیر الہی ، حقیقۃ الرؤیا ، اسلام کا اقتصادی نظام نظام نو وغیرہ عنوانات سے ہی ان تقاریر کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔جلسہ سالانہ کی ہر تقریری اپنے فوائد و تاثر کے لحاظ سے ایک سے ایک بڑھ کر ہے تاہم فضائل القرآن اور سیر روحانی کے عنوان سے آپ نے جو تقاریر بیان فرمائیں ان کی شان ہی نرالی ہے۔فضائل القرآن چھ تقریروں مشتمل ہے۔پہلی تقریر ۱۹۲۸ء کے جلسہ سالانہ میں ہوئی اور آخری تقریر ۱۹۳۶ء کے جلسہ سالانہ میں۔قرآن مجید کے ہر طالب علم کیلئے ان میں ایسا بیش قیمت مواد پایا جاتا ہے جس سے قرآن مجید کے اسرار و انوار معلوم کرنے کیلئے ضروری اور اصولی باتوں کا علم حاصل ہو تا ہے۔میر روحانی نام کی تقاریر کا آغاز ۱۹۳۸ء میں ہوا اور اس سلسلہ کی آخری بارھویں) تقریر ۱۹۵۸ء کے جلسہ سالانہ میں ہوئی۔یہ روح پرور خطابات خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت حضور کی وجدانی و روحانی کیفیت قوت مشاہدہ ظاہری و باطنی علوم کی وسعت و تنوع اور قوت بیان کے بے نظیر مرقع ہیں۔بیا در بزم مستاں تابه بینی عالم دیگر بهشت دیگر و ابلیس دیگر آدم دیگر ان تقاریر کے متعلق حضور فرماتے ہیں:۔کل ہی میرا علمی مضمون ہے اور اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو آپ لوگ دیکھیں گے کہ ان میں سے بہت سی باتیں ایسی ہیں جو عام ہیں اور روزمرہ ہمارے سامنے آتی