سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 312
۳۱۲ كُونُوا رَبانِتِينَ آہستگی سے دین کو جاری کرو۔یعنی اسلامی قانون کو جاری کرنے میں نہایت غور اور فکر اور سہولت کی ضرورت ہے۔مگر بہت سے کام فور اجاری کئے جا سکتے ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ جاری نہ کئے جائیں۔مجلس قانون ساز کے متعلق دقت یہ ہے کہ اسلام ہر شخص کا عالم دین ہونا ضروری قرار دیتا ہے۔لیکن اس زمانہ میں عیسائیوں کی طرح علماء اور عوام کا الگ الگ فرقہ بن گیا ہے۔اس مشکل کو کون فور اصل کر سکتا ہے کہ مقنن اقتصادی ماہر اور سیاسی ماہر دین نہیں جانتے۔دین جانے والے مقنن اقتصادی ماہر اور سیاسی ماہر نہیں ہیں۔منہ سے دعویٰ کرنا اور بات ہے مگر حقیقت کی ہے۔حالانکہ ہمارے آقا جرنیل بھی تھے ، اقتصادی ماہر بھی ، سیاسی ماہر بھی ، مقنن بھی تھے ، مفتی بھی تھے اور قاضی بھی تھے۔فِدَاكَ نَفْسِى يَا رَسُولَ اللهِ - اللهم صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِكْ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ (اسلام کا آئین اساسی صفحہ ۲۱ - ۲۲) ان لیکچروں کی افادیت اور پاکستان کی تعمیر و ترقی علمی طبقوں کی طرف سے قدر افزائی کیلئے ان کی اہمیت کو ملک بھر کے علمی طبقوں نے بڑی قدر کی نظر سے دیکھا۔ملک عبد القیوم صاحب پر نسپل لاء کالج نے حضور کے نام اپنے ایک خط میں لکھا۔پیارے حضرت صاحب ! کل میں نے پاکستان سے متعلق آپ کا لیکچر نہایت دلچسپی سے سنا اور بہت فائدہ اٹھایا۔لیکچر نہ صرف نئے علوم پر مشتمل تھا بلکہ امید اور جرأت و دلیری کی روح سے بھی معمور تھا۔مجھے یقین ہے کہ میرے دو سرے سننے والے ساتھی بھی یہی تاثر لے کر لوٹے ہوں گے۔یہ صرف لیکچر ہی نہیں تھا بلکہ در حقیقت یہ وقت کا نہایت اہم انتباہ ہے ان لوگوں کیلئے جو اشیاء کو بالکل مختلف زاویہ نگاہ سے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔اثناء لیکچر میں آپ نے پاکستان کی بری اور بحری سرحدوں کے غیر محفوظ ہونے کی خوب وضاحت فرمائی ہے اور جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے یہ بھی محکلی حقیقت پر مبنی ہے کہ پاکستان کا قابل انتظام زمینی رقبہ ہی ہمارے حق میں ہو سکتا ہے۔۔۔۔میں آپ کی اس تجویز سے بھی متفق ہوں کہ مشرقی پاکستان سے سمندر کے راستہ جزائر لگادیپ۔