سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 313
۳۱۳ (Laccadive Islands) اور مالدیپ کے ذریعہ تعلق قائم کریں۔اگر ہمارے پاس زمینی راستہ نہ بھی ہو تو راستے میں ایک امدادی اسٹیشن تو ہونا چاہئے"۔تاریخ احمدیت جلد ۱ صفحه ۴۰۸- ترجمه از انگریزی) لاء کالج کے ایک پروفیسر شیخ عبد الکریم صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:۔حضور کا لیکچر اس قدر بلند تھا اور اس قدر پر از معلومات کہ ہر ڈیفنس ممبر کو حضرت صاحب سے مشورہ کرتے رہنا چاہئے۔" مرزا مسعود بیگ صاحب احمدیہ بلڈ نگس نے حضور کی تجاویز کو بیش قیمت نصائح قرار دیتے ہوئے لکھا:۔و بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت مخدومی و معظمی زاد مجد کم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔جناب کے دو لیکچر مینار ڈ ہال میں ہو چکے ہیں اور اہالیان لاہو ر پر ان لیکچروں کا گہرا اثر ہے۔ارباب حل و عقد کو بھی خدا توفیق دے کہ وہ آنجناب کے قیمتی مشوروں اور بیش قیمت نصائح سے استفادہ کر کے ملک و ملت کی مشکلات کا مداوا کریں۔کل رات کے لیکچر کا جو حصہ باقی رہ گیا تھا وہ سب سے زیادہ اہم تھا۔اس سلسلہ میں جناب سے یہ گزارش ہے کہ تیرا لیکچر صرف اسی حصہ پر ہو۔۔۔۔۔اگر کسی بڑے ہال (مثلاً حبيبه ہال اسلامیہ کالج میں لیکچر کا انتظام کیا جائے تو زیادہ تعداد میں لوگ استفادہ کر سکیں گے۔یونیورسٹی امتحانات کی وجہ سے ممکن ہے روکاوٹ ہو تا ہم ایک دن کیلئے ہال خالی کرایا جا سکتا ہے۔دعا ہے کہ جناب کے وجود سے مسلمانوں کو بیش از پیش فوائد حاصل ہوں۔" تحسین ایک اجلاس کے صدر جناب فیروز خان نون نے اپنے صدارتی خطاب میں خراج تحو پیش کرتے ہوئے کہا۔حضرت صاحب کے دماغ کے اندر علم کا ایک سمندر موجزن ہے۔انہوں نے تھوڑے وقت میں ہمیں بہت کچھ بتایا ہے اور نہایت فاضلانہ طریق سے مضمون پر روشنی ڈالی ہے۔" (الفضل ۹۔دسمبر ۱۹۴۷ء) ملک عمر حیات صاحب پر نسپل اسلامیہ کالج، وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:۔