سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 311 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 311

۳۱۱ کو بر طرف کر سکتا ہے۔ملزم کی تعذیب۔بلکہ مجرم کی بھی جائز نہیں۔اسے روکنے کیلئے اقرار جرم کے بعد انکار جرم کو جائز رکھا گیا ہے۔جبری جرم ، جرم نہیں بلکہ جُرم کرانے والا مجرم ہے۔حکومت عوام کی ہے۔انتخاب ضروری ہے۔ریفرنڈم بھی اسلام سے ثابت ہے اور مشوره بواسطہ نمائندگان بھی۔اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ كُمْ أَنْ تُؤَدُّو الا مَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ (نساء:۵۹) وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (شوری (٣٩) شَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ( آل عمران: ۱۶۰) اور پھر حدیث نبوى لَا خِلَافَةَ إِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ اس بارہ میں مشعل راہ ہیں۔(اسلام کا آئین اساسی صفحه ۱۲ تا ۲۱) صنعتی ترقی کے موجودہ دور میں مزدور اور مالک کے تعلقات بہت اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔اس سلسلہ میں اسلام کے عادلانہ احکام بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔" مزدور کی مزدوری فورزا ادا ہو۔اس پر سختی نہ کی جائے۔اس سے وہ کام نہ لیا جائے جو انسان خود نہ کرے۔اس کی مزدوری کا جھگڑا حکومت کے ذریعہ سے چکایا جا سکتا ہے۔بین الا قوامی جھگڑوں کے متعلق لیگ آف نیشنز کا اصول مقرر فرمایا ہے۔فرماتا ہے۔وَاِنْ طَائِفَتْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إحْدُهُمَا عَلَى الأخرى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِى عَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الحجرات: ۱۰) (۱) جب دو قومیں لڑیں تو دوسری اقوام مل کر ان میں صلح کرا ئیں۔(۲) اگر کوئی فریق صلح پر راضی نہ ہو تو دوسری سب اقوام اس کی مدد کریں جو صلح پر آمادہ ہے اور جنگ کرنے والی قوم سے لڑیں۔(۳) جب جنگ کرنے والی قوم جنگ بند کر دے تو یہ بھی جنگ بند کر دیں۔(۴) اس کے بعد پھر اصل جھگڑے کے متعلق باہمی تصفیہ کیا جائے۔(۵) بوجہ اس کے کہ ایک قوم نے پہلے صلح پر رضامندی ظاہر نہ کی تھی اس سے سختی نہ کی جائے بلکہ تنازع کا فیصلہ انصاف سے کیا جائے۔اس وقت مسلمانوں میں مفتی ہیں لیکن مقنن اور قاضی نہیں ہیں اور ادھر حکم ہے