سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 186 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 186

TAM (۷) ہندوؤں کو ایک ایسا قانون پاس کرانے میں جس کی رو سے پرائیویٹ ساہو کارہ باضابطہ ہو سکے ہماری مدد کرنی چاہئے اور ہماری کوششوں کو جو ہم مسلم رقبوں میں مسلمانوں کے فائدہ کیلئے کو آپریٹو بینک کھلوانے کے سلسلہ میں کریں فرقہ وارانہ منافرت کا رنگ نہیں دینا چاہئے۔(۸) جس طرح ملازمتوں کو ہندوستانیوں کے لئے مخصوص کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اسی طرح مختلف قوموں کے تناسب کے لحاظ سے ملازمتوں میں بھی ان کی نیابت منظور کی جائے اور ہر صوبہ میں ہر قوم کی نیابت اس کی تعداد کے لحاظ سے ہوئی چاہئے۔(۹) یہ امر بطور اصل تسلیم کیا جائے کہ جس صوبہ میں جو قوم زیادہ تعداد میں ہو وہ کونسل میں قلیل تعداد نہ رکھے اور جب کسی قلیل التعداد قوم کو خاص مراعات دیتا ہوں تو مذکورہ بالا اصول کے عین مطابق کیا جائے۔(۱۰) یونیورسٹیوں کے بارہ میں بھی یہی اصل ہونا چاہئے کیونکہ یہ ضروری ہے کہ ہر صوبے کی ذہنی بالیدگی ایسی قوم کے سپرد کی جائے جس کی تعداد اس صوبہ میں زیادہ ہو۔(11) صوبہ سرحد میں اصلاحات کا نفاذ اسی طرح اور اسی حد تک ہونا چاہئے جہاں تک کہ دوسرے صوبوں میں ہے اور اس صوبہ میں ہندوؤں کو وہی حقوق دیئے جائیں جو مسلمانوں کو ان صوبوں میں ملے ہیں جہاں وہ اقلیت میں ہیں۔(۱۲) سندھ اور بلوچستان مستقل صوبے بنا دیئے جائیں اور یہاں ہندوؤں کو وہی حقوق دیئے جائیں جو مسلمانوں کو ان صوبوں میں حاصل ہیں جہاں وہ قلیل التعداد ہیں۔(۱۳) چونکہ ہندوستانی ریاستوں کو بھی برٹش انڈیا کے ہم پایہ ہونا چاہئے اس لئے یہ فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ کسی ریاست میں وہاں کی حکمران قوم کو قطع نظر اس کی تعداد کے بعض خاص حقوق دیئے جائیں اور اس کو فوقیت ہونی چاہئے۔(۱۴) مختلف صوبہ جات کے اختیار خود انتظامی کے اصول کو اس شرط پر تسلیم کرنا چاہئے کہ ایسے صوبہ جات ہمیشہ مرکزی حکومت کے قواعد و آئین کے اندر رہیں گے۔(۱۵) مخلوط انتخاب کا طریقہ اصولاً صحیح ہے۔مگر ہندوستان کی موجودہ حالت کے مطابق