سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 187 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 187

IAZ نہیں اور ہمارے خیال میں یہ مسلم مفاد کے لئے خطرناک ہے۔بہرحال جماعت احمدیہ اور پنجاب کے مسلمان اور بعض دوسرے صوبوں کے مسلمان بھی فى الحال مخلوط انتخاب کے طریقہ کو منظور کرنے کیلئے تیار نہیں اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ جداگانہ انتخاب کا حق مسلمانوں کے لئے جاری رہنا چاہیئے اور دوسری جماعتوں کو بھی جو اسے پسند کریں۔(۱۲) مذہبی امور میں سے کوئی بات فیصلہ نہ کی جائے جب تک اس قوم کے تین چوتھائی ممبر جن پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے اس کے حق میں رائے نہ دیں اور فیصلے کرنے کے بعد بھی اگر اتنی ہی تعداد ممبروں کی اس کو چھوڑنا چاہے تو اس کو چھوڑ دیا جائے۔(۱۷) اس وقت تمام فرقہ وارانہ مخالفت اور لڑائیوں میں ایک قوم دوسری کو پیش دستی کا الزام دیتی ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ اتحاد کانفرنس کے آخری فیصلہ سے پہلے یا تو یہ طے ہو جائے کہ تمام مصائب کی ذمہ داری کس قوم پر ہے یا پھر یہ طے ہو جانا چاہئے کہ اگر آئندہ کوئی رنجدہ واقع ہو تو کسی فریق کو گذشتہ واقعات کا حوالہ دینے کی اجازت نہیں ہوگی ورنہ فطرتا یہ خیال پیدا ہو گا کہ ذمہ داری کے اظہار کے ڈر سے صلح کی جارہی ہے۔(۱۸) ہر صوبہ میں ایک بورڈ بنایا جائے جس کی شاخیں تمام اضلاع میں ہوں اور جب کبھی کوئی فرقہ وارانہ مخاصمت پیدا ہو تو لوکل بورڈ کے ممبروں کو فور آ جائے وقوع پر پہنچ کر تفتیش کرنا چاہئے اور جس قوم کی طرف سے ابتداء ثابت ہو اس کے لیڈروں کو اسے مناسب سزا اور مظلوم پارٹی کو ہر ممکن طریق سے مدد دینی چاہئے۔(19) انڈین نیشنل کانگریس صحیح معنوں میں قومی جماعت ہونی چاہئے اور ہر خیال اور عقیدہ کے لوگوں کو اس کا ممبر ہونے کی اجازت ہو اور حلف وفاداری صرف انہیں الفاظ میں لیا جانا چاہئے کہ : ”میں اپنے آپ کو ہندوستانی سمجھتا ہوں اور ہمیشہ ہندوستان کی بہبودی کو مد نظر رکھوں گا۔اس کے سوا ممبر کے لئے کوئی شرط نہیں ہونی چاہئے تاکہ ہر خیال اور عقیدہ کے لوگ اس میں شامل ہو سکیں۔(۲۰) ہر قوم یا فرقہ کو اس کی اپنی تنظیم سے متعلقہ باتوں میں کامل آزادی ہونی چاہئے تا وہ اپنے مفاد کی حفاظت کر سکے۔الفضل ۱۹۔ستمبر ۱۹۲۷ء)