سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 185 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 185

۱۸۵ جامع اور قابل عمل تعریف کا نسخہ کیمیا پیش کر چکے تھے جس کو مان کر تمام مسلمان قطع نظر اپنے روایتی اختلافات اور تفرقوں کے ایک قوم وملت کی شکل اختیار کر کے ایسی عظیم طاقت بن سکتے تھے جس کے مطالبات اور حقوق کو ہندو کانگریس ہی نہیں انگریزی حکومت بھی نظر انداز نہ کر سکتی وہاں دوسری طرف آپ اس وقت کی اہم ضرورت اور جدوجہد آزادی کو صحیح خطوط پر چلاتے ہوئے کامیابی سے ہم کنار کرنے کے وسیع تر مفاد کیلئے ہندو مسلم اتحاد کیلئے بھی برابر کوشاں تھے۔یاد رہے کہ یہ اس زمانہ کی بات ہے جب قائد اعظم ابھی محمد علی جناح کے نام سے ہی پہچانے جاتے اور کانگریس کے ایک ممبر تھے اور ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کی شہرت رکھتے تھے مسلم لیگ میں شمولیت اور قرار داد لا ہو ر یا قرار داد پاکستان بہت بعد کی باتیں ہیں۔ہندو مسلم اتحاد یا ملک میں امن و امان کے قیام اور فسادات و خون خرابے کو ختم کرنے کیلئے حضور نے مندرجہ ذیل ۲۰ نکاتی پروگرام پیش فرمایا :- (1) ہر جماعت کو اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت کرنے اور دوسروں کو اپنے مذہب میں داخل کرنے کی پوری آزادی ہونی چاہئے۔(۲) کسی کے مذہب پر کسی ایسے عقیدہ یا دستور کی وجہ سے جسے وہ اپنے مذہب کا جزو نہ سمجھتی ہو کوئی اعتراض نہ کیا جائے۔(۳) ہر قوم کو مکمل آزادی ہونی چاہئے کہ وہ اپنے افراد کی اقتصادی اصلاح کر سکے اور ان کو کاروبار کرنے یا دکانیں کھولنے کی ترغیب دے اور ان کی سرپرستی کی تحریک کرے۔(۴) اپنی دکانیں کھولنے کی تحریک مسلم قوم کے لئے ایسی ہی مفید ہے جیسے کہ سودیشی تحریک لہذا اس سلسلہ میں ہماری کوششیں کسی انتقام یا دشمنی کی بناء پر نہ سمجھی جائیں۔(۵) کسی قوم کے مذہبی یا سوشل عقائد سے کوئی تعرض نہ ہونا چاہئے۔اگر مسلمان گائے ذبح کرنا چاہئیں تو ان کو پوری آزادی ہونی چاہئے۔اسی طرح عیسائیوں سکھوں ، ہندوؤں کو سور مارنے یا جھٹکے کرنے یا باجہ بجانے میں پوری آزادی ہو۔(1) مذہبی امور میں ہر قوم کو مکمل آزادی ہونی چاہئے اور یہ اصل ہندو مسلم اتحاد کا ایک ضروری جزو قرار دینا چاہئے۔