سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 89
۸۹ کی منظوری میں یہ شرط لگادی گئی کہ زمین پر قبضہ کے ۱۸ ماہ کے اندر بستی کے تمام مکان بنا لئے جائیں۔حضور نے فوری طور پر اس کے متعلق ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: ” میرا خیال ہے کہ ایک وفد گورنر کو ملے کہ ہم ریفیوجی ہیں ہم پر گاؤں بنانے میں پابندیاں کیوں لگائی جارہی ہیں ؟ دنیا میں آخر اور بھی گاؤں بن رہے ہیں ہمارے پاس اتنا روپیہ کہاں کہ ہم ان پابندیوں کو پورا کر سکیں یا گورنمنٹ اپنے پاس سے ہیں تمھیں لاکھ روپیہ بلا سود اس مقصد کیلئے ہمیں قرض دے دے یا پھر جب قصبہ بنے تو پھر پیلانگ (Planning) کیا جائے ہمیں فی الحال چھپر وغیرہ بنانے کی اجازت دی جائے جس میں ہم راستوں وغیرہ کی پلینگ کا خیال رکھیں گے بعد میں آہستہ آہستہ کھلے مکان پیلینگ کے مطابق بنا لیں گے۔ایک وفد رضا کے پاس جائے۔رضا فنانس کمشنر کے سیکرٹری ہیں۔یہ وفد اس لئے جائے کہ معاہدہ کی دفعہ نمبر K۱۴) میں یہ شرط ہے کہ اٹھارہ ماہ کے اندر مکان بن جائے۔یہ شرط تو افراد کیلئے ہے شہر تو گو ر نمنٹ بھی پندرہ میں سال کے ، تو بعد بناتی ہے لہذا اس شق کو یا تو بدل دیا جائے یا منسوخ کیا جائے۔دوسری بات ان سے یہ کی جائے کہ اگر ہم وہاں رہیں گے تبھی شہر بنے گا لہذا فی الحال ہمیں وہاں رہنے کیلئے عارضی جھونپڑیاں بنانے کی اجازت دی جائے بغیر اس کے تو وہاں رہنے کی کوئی صورت ہی نہیں ہو سکتی۔تیسری بات یہ کی جائے کہ نقشہ ساتھ لے جایا جائے کہ اس سارے پر شہر نہیں بن سکے گا بلکہ بعض حصوں کو باغات ، زراعت اور کھیلوں وغیرہ کیلئے رکھا جائے گا۔نیز یہ کہ عمارت سے زیادہ پائیدار چیز کو تو شرط کے خلاف قرار دیا جا سکتا ہے۔زراعت اور باغات وغیرہ تو عمارت کے مقابلہ میں عارضی ہیں پہلے معاملہ کی درخواست کی جائے اور دوسرے کے متعلق (Discuss ) کیا جائے۔اختر صاحب ( محترم غلام محمد صاحب اختر کی معرفت ریلوے اسٹیشن اور ڈاک خانہ کیلئے فورا درخواست کرنی چاہئے۔اس میں یہ ہو کہ ہم سارا نقصان برداشت کر لیں گے اس کی ضمانت ہم دیں گے۔" (یعنی اگر حکام کی طرف سے ان سہولتوں کی منظوری کے سلسلہ میں یہ عُذر پیش کیا جائے کہ یہ ایک نئی آبادی ہے اور نقصان کا اندیشہ ہو سکتا ہے تو جماعت نقصان