سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 533 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 533

۵۳۳ حضور پر کبھی غنودگی طاری ہوتی تو کبھی پوری ہوش کے ساتھ آنکھیں کھول لیتے اور اپنی عیادت کرنے والوں پر نظر فرماتے۔ایک مرتبہ بڑی خفیف آواز میں برادرم ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کو بھی طلب فرمایا۔لیکن جیسا کہ مقدر تھا رفتہ رفتہ یہ غنودگی کی کیفیت ہوش کے وقفوں پر غالب آنے لگی اور جوں جوں رات بھیگتی گئی غنودگی بڑھتی رہی۔اس وقت بھی گو ہماری تشویش بہت بڑھ گئی تھی لیکن یہ تو وہم و گمان بھی نہ تھا کہ حضور کی یہ آخری رات ہے جو آپ ہمارے درمیان گزار رہے ہیں۔تقریباً گیارہ بجے شب میں ذرا ستانے اور ایک لاہور سے تشریف لائے ہوئے مہمان کو گھر چھوڑنے گیا۔اور عزیزم انس احمد کو تاکید کر گیا کہ اگر ذرا بھی طبیعت میں کمزوری دیکھو تو اسی وقت بذریعہ فون مجھے مطلع کر دو۔نماز وغیرہ سے فارغ ہو کر بستر پر لیٹے ابھی چند منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ فون کی دل دہلا دینے والی گھنٹی بجنے لگی۔مجھے فوری طور پر پہنچنے کی تاکید کی جارہی تھی۔اسی وقت جلدی سے وضو کر کے نا قابل بیان کیفیت میں وہاں پہنچا۔قصر خلافت میں داخل ہوتے ہی مکرم ڈاکٹر مسعود احمد صاحب اور مکرم ڈاکٹر ز کی الحسن صاحب کے پژمردہ چہروں پر نظر پڑی جو باہر برآمدے میں کرسیوں پر بیٹھے تھے۔حضور کے کمرہ میں پہنچا تو اور ہی منظر پایا۔کہاں احتیاط کا وہ عالم کہ ایک وقت میں دو افراد سے زائد اس کمرہ میں جمع نہ ہوں اور کہاں یہ حالت کہ افراد خاندان سے کمرہ بھرا ہوا تھا۔حضرت سیدہ ام متین اور حضرت سیدہ مہر آپا بائیں جانب سرہانے کی طرف اداسی کے مجھے بنی ہوئی پٹی کے ساتھ لگی بیٹھی تھیں۔برادرم حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب دائیں طرف سرہانے کے قریب کھڑے تھے اور حضرت بڑی پھوپھی جان اور حضرت چھوٹی پھوپھی جان بھی چارپائی کے پہلو میں ہی کھڑی تھیں۔میرے باقی بھائی اور بہنیں بھی جو بھی ربوہ میں موجود تھے سب رہیں تھے اور باقی اعزاء و اقرباء بھی سب ارد گرد اکٹھے تھے سب کے ہونٹوں پر دعائیں تھیں اور سب کی نظریں اس مقدس چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔سانس کی رفتار تیز تھی اور پوری بے ہوشی طاری تھی۔چہرے پر کسی قسم کی تکلیف یا جد وجہد کے آثار نہ تھے۔میں نے کسی بیمار کا چہرہ اتنا پیارا اور ایسا نظر آتا ہوا نہیں دیکھا۔میں نہیں جانتا کہ اس حالت میں ہم کتنی دیر کھڑے رہے اور سانس کی کیفیت میں وہ کیا تبدیلی تھی جس نے ہمیں غیر معمولی طور پر چونکا دیا۔معصوم