سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 532 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 532

۵۳۲ والی اور بہت لمبی لگی مگر اس میں بھی کئی مصالح اور فوائد مضمر تھے۔حضور کا مندرجہ ذیل ارشاداس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔ایک رجس تو یہ دور ہوا کہ پہلے احمدی سمجھتے تھے کہ میں نے پانچ چھ سو سال زندہ رہنا ہے۔بیماری آئی تو انہیں ہوش آگیا کہ ہم بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء صفحہ ۱۹۹) حضور کی بیماری اور علاج کا ذکر سوانح کی جلد سوم میں سفر یورپ کے سلسلہ میں ہو چکا ہے۔حضور کے آخری لمحات کی منظر کشی کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (امام) جماعت احمدیہ) فرماتے ہیں۔”ہمارے نہایت ہی پیارے امام میرے محبوب روحانی اور جسمانی باپ حضرت اقدس خلیفہ المسیح الثانی کی بیماری کے آخری چند لمحات کی یاد ایک نہ مٹنے والا نقش ہے۔شام سے طبیعت زیادہ خراب تھی اور مسلسل سانس کو درست رکھنے کے لئے آکسیجن دی جارہی تھی۔چھاتی میں رسوب زیادہ بھر رہا تھا جسے بار بار نکالنے کی ضرورت پیش آتی تھی اور مکرم و محترم ڈاکٹر قاضی مسعود احمد صاحب اور برادرم ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب بار بار معائنہ فرماتے اور رسوب کا اخراج خود اپنے ہاتھوں سے کرتے رہے۔بچوں میں سے دو تو ڈیوٹی پر تھے اور باقی تمام ویسے ہی جمع تھے۔خاندان کے بڑے چھوٹے سبھی کے دل اندیشوں کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے تاہم زبان پر کوئی کلمہ بے صبری کا نہ تھا اور امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹا تھا۔اندیشے دھوئیں کی طرح آتے اور جاتے تھے۔تو کل علی اللہ اور نیک امید غیر متزلزل چٹان کی طرح قائم تھے۔وہ جو صاحب تجربہ نہیں شاید اس بظاہر متضاد کیفیت کو نہ سمجھ سکیں لیکن وہ صاحب تجربہ جو اپنے رب کی قضاء کے اشاروں کو سمجھنے کے باوجود اس کی رحمت سے کبھی مایوس ہونا نہیں جانتے میرے اس بیان کو بخوبی سمجھ جائیں گے۔پس افکار کے دھوئیں میں گھری ہوئی ایک امید کی شمع ہر دل میں روشن تھی اور آخر تک روشن رہی تاہم کبھی کبھی یہ فکر کا دھواں دم گھونٹنے لگتا تھا۔دعا ئیں سب ہونٹوں پر جاری تھیں اور ہر دل اپنے رب کے حضور سجدہ ریز تھا۔