سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 534
۵۳۴ اس وقت مجھے پہلی مرتبہ یہ غالب احساس ہوا کہ گو خد اتعالیٰ قادر مطلق اور حی و قیوم ہے اور ہر آن اپنی تقدیر کو بدل سکتا ہے لیکن وہ تقدیر جس سے ہمارے نادان دل گھبراتے تھے وہ تقدیر آپہنچی ہے۔پس اسی وقت میں نے قرآن کریم طلب کیا اور اس مقدس وجود کی روحانی تسکین کی خاطر جس کی ساری زندگی قرآن کریم کے عشق اور خدمت میں صرف ہوئی سورہ یسین کی تلاوت شروع کر دی۔یہ ایک مشکل گھڑی تھی اور سر سے پاؤں تک میرے جسم کا ذرہ ذرہ کانپ رہا تھا۔اس وقت مجھے صبر کی طنابیں ڈھیلی ہوتی ہوئی محسوس ہو ئیں۔اس وقت میں نے اپنے چاروں طرف سے گھٹی گھٹی سسکیوں کی آواز میں بلند ہوتی ہوئی سنیں۔لیکن خدا گواہ ہے کہ ہر سسکی دعاؤں میں لپٹی ہوئی اور ہر دعا آنسوؤں میں بھیگی ہوئی تھی۔سورہ یسین کی تلاوت کے دوران ہی میں سانس کی حالت اور زیادہ تشویشناک ہو چکی تھی اور تلاوت کے اختتام تک زندگی کی کشمکش کے آخری چند لمحے آپہنچے تھے۔میں نے قرآن کریم ہاتھ سے رکھ دیا اور دوسرے عزیزوں کی طرح قرآنی اور دیگر مسنون دعاؤں میں مصروف ہو گیا۔حضور نے ایک گہری اور لمبی سانس لی جیسے معصوم بچے روتے روتے تھک کر لیا کرتے ہیں اور ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے آپ کی آخری سانس ہے۔اسی وقت میں نے ایک ہو میو پیتھک دوا کے چند قطرے پانی میں ملا کر اپنی تشہد کی انگلی سے قطرہ قطرہ حضور کے ہونٹوں میں ٹپکانے شروع کئے اور ساتھ ہی بے اختیار ہونٹوں پر یہ دعا جاری ہو گئی کہ يَا حَيٌّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيْثُ اس وقت سانس بند تھے اور جسم ٹھنڈا ہو رہا تھا اور بظاہر زندگی کا رشتہ ٹوٹ چکا تھا لیکن اچانک ہم نے حی و قیوم خدا کا ایک عظیم معجزہ دیکھا۔مجھے حضرت پھوپھی جان کی بے قرار آواز سنائی دی کہ دیکھو ابھی پاؤں میں حرکت ہوئی تھی اور ان الفاظ کے ساتھ ہی ہونٹوں میں بھی خفیف سی حرکت ہوئی اور سانس لینے کا سا اشتباہ ہوا۔معا شدید کرب اور بے چینی سکینت میں بدل گئے اور ہر طرف سے یا حی یا قیوم کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔اور جوں جوں ہم دعا کرتے رہے حضور کے سانس زیادہ گہرے ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ وہ ڈاکٹر بھی جو جسم کو بظاہر مُردہ چھوڑ کر چلے گئے تھے واپس بلائے گئے اور بڑی حیرت سے اس معجزانہ تبدیلی کا مشاہدہ کرنے لگے۔مگر معلوم ہو تا ہے کہ حضور کی زندگی کا بظا ہر