سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 251 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 251

۲۵۱ رکھتی ہے۔لیکن افسوس کہ وہی گاندھی جو ہمیشہ سیاسیات میں حصہ لیتے رہتے ہیں میری بات سننے پر تیار نہ ہوئے۔اسی طرح میں پنڈت نہرو کے دروازے پر گیا اور کہا کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان صلح ہونی نہایت ضروری ہے لیکن انہوں نے بھی صرف یہ کہہ دیا کہ یہ ٹھیک تو ہے۔ہاں آپ ٹھیک کہتے ہیں مگر اب کیا ہو سکتا ہے کیا بن سکتا ہے ؟ اسی طرح میں نے تمام لیڈروں سے ملاقاتیں کر کر کے سارا زور لگایا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان صلح ہو جائے مگر افسوس کہ کسی نے میری بات نہ سنی اور صرف اس لئے نہ سنی کہ میں پانچ لاکھ کا لیڈر تھا اور وہ کروڑوں کے لیڈر تھے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ملک کے اندر جگہ جگہ فسادات ہو رہے ہیں اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔اگر یہ لوگ اس وقت میری بات کو مان جاتے اور صلح و صفائی کی کوشش کرتے تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔مگر میری بات کو مانا نہ گیا اور صلح سے پہلو تہی اختیار کی۔اس کے تھوڑے عرصہ بعد بہار اور گڑھ مکتیسر کا واقعہ ہوا اور اب پنجاب میں ہو رہا ہے اگر اب بھی ان لوگوں کی ذہنیتیں نہ بدلیں تو یہ فسادات اور بھی بڑھ جائیں گے اور ایسی صورت اختیار کر لیں گے کہ باوجود ہزار کوششوں کے بھی نہ رک سکیں گے۔اس وقت ضرورت صرف ذہنیتیں تبدیل کرنے کی ہے اگر آج بھی ہندو اقرار کر لیں کہ ہم سے غلطی ہوئی تھی آؤ مسلمانو! ہم سے زیادہ سے زیادہ حقوق لے لو تو آج ہی صلح ہو سکتی ہے اور یہ تمام جھگڑے رفع دفع ہو سکتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ لوگ بغض پر بغض کی بنیادیں رکھتے چلے جاتے ہیں اور انجام سے بالکل غافل بیٹھے ہیں۔اگر وہ صلح کرنا چاہیں اگر وہ پنپنا چاہیں اور اگر وہ گلے ملنا چاہیں تو یہ سب کچھ آج ہی ہو سکتا ہے مگر اس کا صرف اور صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے زہنیتوں میں تبدیلی۔پس آج یہ سوال نہیں رہا کہ ہمارے ساتھ پاکستان بن جانے کی صورت میں کیا ہو گا۔سوال تو یہ ہے کہ اتنے لمبے تجربہ کے بعد جب کہ ہند و حاکم تھے گو ہندو خود تو حاکم نہ تھے بلکہ انگریز حاکم تھے لیکن ہندو حکومت پر چھائے ہوئے تھے جب ہندو ایک ہندو کو اس لئے ملازمت دے دیتے تھے کہ وہ ہندو ہے ، جب ہندو ایک ہندو کو اس لئے ٹھیکہ دے دیتے تھے کہ وہ ہندو ہے اور جب وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں ہندوؤں کو صرف اس لئے قابل اور اہل قرار