سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 252
۲۵۲ دیتے تھے کہ وہ ہندو ہیں اور جب ہندو انگریز کی نہیں بلکہ اپنی حکومت سمجھتے ہوئے ہندوؤں سے امتیازی سلوک کرتے تھے اور جب وہ نوکری میں ہندو کو ایک مسلمان پر صرف یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ ہندو ہے فوقیت دیتے تھے اس وقت کے ستائے ہوئے دکھائے ہوئے اور تنگ آئے ہوئے مسلمان اگر اپنے الگ حقوق کا مطالبہ کریں تو کیا ان کا یہ مطالبہ ناجائز ہے؟ کیا یہ ایک روشن حقیقت نہیں کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا رہا ہے جو نہایت نا واجب نہایت ناروا اور نہایت نامنصفانہ تھا؟ حال کا ایک واقعہ ہے۔ہمارا ایک احمدی دوست فوج میں ملازم ہے باوجودیکہ اس کے خلاف ایک بھی ریمارک نہ تھا اور دوسری طرف ایک سکھ کے خلاف چار ریمارکس تھے اس سکھ کو اوپر کر دیا گیا اور احمدی کو گرا دیا گیا۔جب وہ احمدی انگریز کمانڈر کے پاس پہنچا اور اپنا واقعہ بیان کیا تو اس نے کہا واقعی آپ کے ساتھ ظلم ہوا ہے تم درخواست لکھ کر میرے پاس لاؤ لیکن جب وہ درخواست لے کر انگریز افسر کے پاس پہنچا تو اس نے درخواست اپنے پاس رکھ لی اور اسے اوپر نہ بھیجوایا۔کئی دن کے بعد جب دفتر سے پتہ لیا گیا کہ آخر وجہ کیا ہے کہ درخواست کو اوپر بھجوایا نہیں گیا تو دفتر والوں نے بتایا کہ اصل بات یہ ہے کہ شملہ سے آرڈر آگیا ہے کہ کوئی اپیل اس حکم کے خلاف اوپر نہ بھجوائی جائے۔جس قوم کے ساتھ اتنا لمبا عرصہ یہ انصاف برتا گیا ہو کیا وہ اس امر کا مطالبہ نہ کرے گی کہ اسے الگ حکومت دی جائے ؟ اس مسئلہ کا ایک دوسرے نقطۂ نظر سے جائزہ لیتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔ان حالات کے پیش نظر ان کا حق ہے کہ وہ یہ مطالبہ کریں اور ہر دیانتدار کا فرض ہے کہ خواہ اس میں اس کا نقصان ہو مسلمانوں کے اس مطالبہ کی تائید کرے۔پس ایک نقطہ نگاہ تو یہ ہے جس سے ہم اس اخبار کے متعلقہ مضمون پر غور کر سکتے ہیں۔دوسرا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ بے شک ہمیں مسلمانوں کی طرف سے بھی بعض اوقات تکالیف پہنچ جاتی ہیں اور ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ شاید وہ ہمیں پھانسی پر چڑھادیں گے لیکن میں ہندوؤں سے یہ پوچھتا ہوں کہ تم لوگوں نے ہمیں کب سکھ دیا تھا؟ اور تم لوگوں نے کب آرام پہنچایا تھا؟ اور تم لوگوں نے کب ہمارے ساتھ ہمدردی کی تھی؟ کیا بہار میں بے گناہ احمدی مارے گئے یا نہیں ؟ کیا ان کی جائیدادیں تم لوگوں نے تباہ کیس یا نہیں ؟