سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 250
۲۵۰ کو کس طرح لائق اور اہل کہا جا سکتا ہے اور اگر کسی جگہ قتل و غارت کا ہونا ہی وہاں کی گورنمنٹ کو نا اہل قرار دینے کا موجب ہو سکتا ہے تو کیوں نہ سب سے پہلے بمبئی اور بہار کی گورنمنٹوں کو نا اہل کہا جائے۔ایک ہی دلیل کو ایک جگہ استعمال کرنا اور دوسری جگہ نہ کرنا سخت نا انصافی اور بد دیانتی ہے۔اگر یہی قاعدہ کلیہ ہو تو سب جگہ یکساں چسپاں کیا جانا چاہئے نہ کہ جب اپنے گھر کی باری آئے تو اس کو نظر انداز کر دیا جائے۔کسی علاقے میں قتل و غارت اور فسادات کا ہونا ضروری نہیں کہ حاکم کی غلطی ہی سے ہو۔" حضور نے ملک و قوم کی بھلائی کیلئے سیاسی لیڈروں میں باہم موافقت پیدا کر نیکی نہایت بے لوث خدمات سرانجام دیں ان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔میں پچھلے سال اکتوبر نومبر میں اس نیت سے دہلی گیا تھا کہ کوشش کر کے کانگریس اور مسلم لیگ کی صلح کرا دوں۔میں ہر لیڈر کے دروازہ پر خود پہنچا اور اس میں میں نے اپنی ذرا بھی ہتک محسوس نہ کی اور کسی کے پاس جانے کو عار نہ سمجھا۔صرف اس لئے کہ کانگریس اور مسلم لیگ میں مفاہمت کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔ان کے در میان انشقاقی اور افتراق رہنے کی وجہ سے ملک کے اندر کسی قسم کا فتنہ و فساد ہونے نہ پائے۔میں مسٹر گاندھی کے پاس گیا اور کہا کہ اس جھگڑے کو ختم کراؤ لیکن انہوں نے ہنس کر ٹال دیا اور کہا میں تو صرف ایک گاندھی ہوں آپ لیڈر ہیں آپ کچھ کریں۔مگر میں کہتا ہوں کہ کیا واقعہ میں گاندھی ایک آدمی ہے اور اس کا اپنی قوم یا ملک کے اندر کچھ رُعب نہیں۔اگر وہ صرف ایک گاندھی ہے تو سیاسیات کے معاملہ میں دخل ہی کیوں دیتا ہے ؟ وہ صرف اس لئے دخل دیتا ہے کہ ملک کا اکثر حصہ اس کی بات کو مانتا ہے۔مگر میری بات کو ہنس کر ٹلا دیا گیا اور کہہ دیا گیا میں تو صرف ایک گاندھی ہوں اور ایک آدمی ہوں حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ وہ تیس کروڑ کے لیڈر ہیں اور میں صرف ہندوستان کے پانچ لاکھ کا لیڈر ہوں۔کیا میرے کوئی بات کہنے اور تمہیں کروڑ کے لیڈر کے کوئی بات کہنے میں کوئی فرق نہیں بیشک میں پانچ لاکھ کا لیڈر ہوں اور میری جماعت بھی ہیں جو میری ہر بات پر عمل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور مجھے واجب الاطاعت تسلیم کرتے ہیں لیکن بہر حال وہ پانچ لاکھ ہی ہیں اور پانچ لاکھ کے لیڈر اور تمھیں کروڑ کے لیڈر کی آواز ایک سی نہیں ہو سکتی۔تمیں کروڑ کے لیڈر کی آواز ضرور اثر میں مخلصين