سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 234 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 234

۲۳ ”ہندوستان کے مسئلہ کا حل ایک اور ممتاز تصنیف مرزا بشیر الدین محمود) خلیفة المسیح امام جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔" ایل۔ایم ایمری۔مشہور ممبر کنزرویٹو پارٹی ” میں نے اس کتاب کو بڑی دلچسپی سے پڑھا ہے اور میں اس روح کو جس کے ساتھ یہ کتاب لکھی گئی ہے اور نیز اس محققانہ قابلیت کو جس کے ساتھ ان سیاسی مسائل کو حل کیا گیا ہے۔نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔" ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب آف علی گڑھ تحریر فرماتے ہیں۔”میں نے جناب کی کتاب نہایت دلچسپی سے پڑھی۔میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس کی یورپ میں بہت اشاعت فرمائیں۔ہر ایک ممبر پارلیمنٹ کو ایک ایک نقل ضرور بھیج دی جائے اور انگلستان کے ہر مدیر اخبار کو ایک ایک نسخہ ارسال فرمایا جائے۔اس کتاب کی ہندوستان کی نسبت انگلستان میں زیادہ اشاعت کی ضرورت ہے۔جناب نے اسلام کی ایک اہم خدمت سر انجام دی ہے۔" سیٹھ حاجی عبد اللہ ہارون صاحب ایم۔ایل۔اے۔کراچی ” میری رائے میں سیاسیات کے باب میں جس قدر کتابیں ہندوستان میں لکھی گئی ہیں ان میں کتاب ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل بہترین تصانیف میں سے ہے۔" علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال لاہور تحریر فرماتے ہیں۔" تبصرہ کے چند مقامات کا میں نے مطالعہ کیا ہے۔نہایت عمدہ اور جامع ہے۔" اخبار انقلاب لاہو ر اپنی اشاعت مؤرخہ ۱۲ نومبر ۱۹۳۰ء میں رقمطراز ہے:۔جناب مرزا صاحب نے اس تبصرہ کے ذریعہ سے مسلمانوں کی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے۔یہ بڑی بڑی اسلامی جماعتوں کا کام تھا جو مرزا صاحب نے انجام دیا۔اخبار سیاست اپنی اشاعت مؤرخہ ۲۔دسمبر۱۹۳۰ء میں رقمطراز ہے:۔ذہبی اختلافات کی بات چھوڑ کر دیکھیں تو جناب بشیر الدین محمود احمد صاحب نے میدان تصنیف و تالیف میں جو کام کیا ہے وہ بلحاظ ضخامت و افادہ ہر تعریف کا مستحق ہے اور سیاسیات میں اپنی جماعت کو عام مسلمانوں کے پہلو بہ پہلو چلانے میں آپ نے