سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 235 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 235

۲۳۵ جس عمل کی ابتداء کر کے اس کو اپنی قیادت میں کامیاب بنایا ہے وہ بھی ہر منصف مزاج مسلمان اور حق شناس انسان سے خراج تحسین وصول کر کے رہتا ہے۔آپ کی سیاسی فراست کا ایک زمانہ قائل ہے۔اور نہرو رپورٹ کے خلاف مسلمانوں کو مجتمع کرنے میں ، سائمن کمیشن کے روبرو مسلمانوں کا نقطۂ نگاہ پیش کرنے میں، مسائل حاضرہ پر اسلامی نقطۂ نگاہ سے مدلل بحث کرنے اور مسلمانوں کے حقوق کے متعلق استدلال سے کتابیں شائع کرنے کی صورت میں آپ نے بہت ہی قابل تعریف کام کیا ہے۔زیر بحث کتاب سائن رپورٹ پر آپ کی تنقید ہے جو انگریزی زبان میں لکھی گئی ہے۔جس کے مطالعہ سے آپ کی وسعت معلومات کا اندازہ ہوتا ہے۔آپ کا طرز بیان سلیس اور قائل کر دینے والا ہو تا ہے۔آپ کی زبان بہت شستہ ہے۔" ایڈیٹر صاحب اخبار لکھنؤ مورخه ۵ - دسمبر ۱۹۳۰ء کے پرچہ میں رقمطراز ہے:۔”ہمارے خیال میں اس قدر ضخیم کتاب کا اتنی قلیل مدت میں اردو میں لکھا جانا انگریزی میں ترجمہ ہو کر طبع ہونا اغلاط کی درستی پروف کی صحت اور اس سے متعلقہ سینکڑوں وقتوں کے باوجود تحمیل پانا اور فضائی ڈاک پر لنڈن روانہ کیا جانا اس کا بین ثبوت ہے کہ مسلمانوں میں بھی ایک ایسی جماعت ہے جو اپنے نقطہ نظر کے مطابق اپنے فرائض سمجھ کر وقت پر انجام دیتی ہے اور نہایت مستعدی اور تندہی کے ساتھ۔غرضیکہ کتاب مذکور ظاہری اور باطنی خوبیوں سے مزین اور دیکھنے کے قابل ہے۔" حضرت مصلح موعود کی قیادت کی یہ قانونی ذرائع سے حقوق حاصل کرنے کی مثال نمایاں خصوصیت رہی کہ آپ نے ہمیشہ صلح و سلامتی کا رستہ اپنایا اور ہر اس کام سے خود بھی الگ رہے اور جماعت کو بھی الگ رکھا جس میں فساد اور قانون شکنی کی کوئی صورت نظر آتی ہو۔تاہم جماعت میں جرات و بہادری پیدا کرنے ، اپنے جائز حقوق صحیح ذرائع سے حاصل کرنے اور غیرت ایمانی پیدا کرنے کے مقاصد بھی ہمیشہ آپ کے پیش نظر رہے۔۷۔اگست ۱۹۲۹ء کو حضور کی قادیان سے غیر حاضری میں جب کہ آپ بحالی صحت کی غرض سے کشمیر تشریف لے گئے ہوئے تھے چند سو سکھوں کے ایک پُر تشدد ہجوم نے گائے ذبح کرنے سے مذہبی منافرت پھیلنے کا بہانہ بناتے ہوئے قادیان کے مذبح کو پولیس کی موجودگی میں مسمار کر دیا۔قانون شکنی اور فساد کی یہ حرکت جماعت کے حقوق اور عزت نفس کے