سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 202
۲۰۲ کوشش کی اور انہیں انصاف کے تقاضوں سے باخبر کرتے رہے۔دوسرے نمبر پر مسلمان تھے جو ہندوؤں سے صرف اپنی تعداد میں ہی کم نہ تھے بلکہ اپنے سیاسی تجربہ اور مالی وسائل و ذرائع میں بھی ہندوؤں سے بہت پیچھے تھے۔تاہم حضور کی ساری خداداد صلاحیتیں مسلمانوں کے مفاد کی حفاظت اور ان کی بہبودی و ترقی کیلئے وقف تھیں " کہ آخر کنند دعوی حب پیمبرم " ہندوستان میں سکھوں کی تعداد ہندوؤں اور مسلمانوں سے کہیں کم تھی۔وہ اپنی غیر ذمہ دارانہ اور عاقبت نا اندیش قیادت اور ہندوؤں کی چکنی چپڑی باتوں کی وجہ سے ہندوؤں سے تعلقات رکھنے میں اپنی بہتری و بهبود خیال کرتے تھے۔حضور نے تحریر و تقریر کے ذریعہ انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ان کا مفاد ہندوؤں کے ساتھ وابستہ نہیں بلکہ وہ مسلمانوں سے اتفاق و اتحاد کے نتیجے میں اپنے مفادات کی بہتر رنگ میں حفاظت کر سکتے ہیں۔سکھوں نے اپنی سطحی سوچ اور وقتی مفاد کے پیش نظر ان باتوں کی طرف کوئی دھیان نہ دیا اور ہندوؤں کے ساتھ مل کر بربریت و بہیمیت کے ایک خونی باب کا اضافہ کیا۔مگر وہ اپنے اس ظلم کی بہت بھاری قیمت ادا کر رہے اور اپنے کئے پر پشیمان ہو رہے ہیں۔اس سلسلے میں حضور کا مندرجہ ذیل کسی قدر طویل بیان اس مسئلہ کے علاوہ کئی اور ضروری امور پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔آپ تقسیم برصغیر کے برطانوی منصوبہ کا ذکر کرتے ہوئے سکھ قوم کے نام دردمندانہ اپیل کے عنوان کے تحت تحریر فرماتے ہیں۔اس وقت تک جو تقسیم کا اعلان ہوا ہے اس کا حسب ذیل نتیجہ نکلا ہے۔ہندو (انگریزی علاقے کے ۲۱ کروڑ میں سے ساڑھے انیس کروڑ ایک مرکز میں ہی جمع ہو گئے ہیں اور صرف ڈیڑھ کروڑ مشرقی اور مغربی اسلامی علاقوں میں گئے ہیں۔گویا اپنی قوم سے جُدا ہونے والے ہندوؤں کی تعداد صرف سات فیصدی ہے۔باقی ترانوے فیصدی ہندو ایک جھنڈے تلے جمع ہو گئے ہیں اور تین کروڑ ہندو اکثریت کے علاقوں میں ہی گئے ہیں۔گویا اپنی قوم سے جدا ہونے والے مسلمان ۳۷ فیصدی ہیں۔سکھ (انگریزی علاقے میں) ۲۱ لاکھ مشرقی پنجاب میں چلے گئے ہیں اور سترہ لاکھ مغربی پنجاب میں رہ گئے ہیں۔گویا ۴۵ فیصدی سکھ مغربی پنجاب میں چلے گئے ہیں۔اور ۵۵ فیصدی مشرقی پنجاب میں اور تینوں قوموں کی موجودہ حالت یہ ہو گئی ہے۔ہندو ننانوے فیصدی اپنے مرکز میں جمع ہو گئے ہیں۔مسلمان چونسٹھ فیصدی اپنے دو مرکزوں میں جمع ہو گئے ہیں۔سکھ پچپن فیصدی اور پینتالیس فیصدی ایسے دو مرکزوں میں جمع ہو گئے ہیں جہاں انہیں