سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 203 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 203

۲۰۳ اکثریت کا حاصل ہونا تو الگ رہا پچیس فیصدی تعداد بھی انہیں حاصل نہیں۔کیا اس صورت حال پر سکھ خوش ہو سکتے ہیں؟ بات یہ ہے کہ اس بنوارہ سے ہندوؤں کو بے انتہاء فائدہ پہنچا ہے۔مسلمانوں کو اخلاقی طور پر فتح حاصل ہوئی ہے لیکن سکھوں کو مادی طور پر بھی اور اخلاقی طور پر بھی نقصان پہنچا ہے۔گویا سب سے زیادہ گھانا سکھوں کو ہوا ہے اور اس سے کم مسلمانوں کو۔ہندوؤں کو کسی قسم کا بھی کوئی نقصان نہیں ہو ا صرف اس غنیمت میں کمی آئی ہے جو وہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔و لیکن ابھی وقت ہے کہ ہم اس صورت حال میں تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔سکھ صاحبان جانتے ہیں کہ احمد یہ جماعت کو کوئی سیاسی اور مادی فائدہ اس یا اس سکیم سے حاصل نہیں ہوتا۔احمدی جماعت کو ہر طرف سے خطرات نظر آ رہے ہیں۔ایک پہلو سے ایک خطرہ ہے تو دوسرے پہلو سے دوسرا۔پس میں جو کچھ کہہ رہا ہوں عام سیاسی نظریہ اور سکھوں کی خیر خواہی کے لئے کہہ رہا ہوں کہ جس علاقے میں میں رہتا ہوں گو اس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے لیکن سکھ اس علاقے میں کافی ہیں اور ہمارے ہمسائے ہیں اور ان کی نسبت کوئی ۳۳ فیصدی تک ہے اس لئے سکھوں سے ہمارے تعلقات بہت ہیں۔بعض سکھ رؤساء سے ہمارا خاندانی طور پر مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ سے بھائی چارہ اب تک چلا آتا ہے اس لئے میری رائے مخفی خیر خواہی کی بناء پر ہے میرا دل نہیں چاہتا کہ سکھ صاحبان اس طرح کٹ کر رہ جائیں۔اگر تو کوئی خاص فائدہ سکھوں کو پہنچا تو میں اس تجویز کو معقول سمجھتا مگر اب تو صرف اس قدر فرق پڑا ہے کہ سارے پنجاب میں مسلمان تعداد میں اول تھے۔ہندو دوم اور سکھ سوم ہیں۔سکھ اس بٹوارے سے دوم ہو جاتے تو کچھ معقول بات بھی تھی مگر صرف مسلمان اول سے دوم ہو گئے اور ہندو دوم سے اول۔سکھوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔پرانے پنجاب میں مسلمانوں نے اپنے حق سے ساڑھے پانچ فیصدی سکھوں کو دے دیا تھا۔اب تک ہندوؤں کی طرف سے کوئی اعلان نہیں ہوا کہ وہ کتنا حصہ اپنے حصہ میں سے سکھوں کو دینے کو تیار ہیں۔۔"پرانے پنجاب میں چودہ فیصدی سکھوں کو اکیس فیصدی حصہ ملا ہوا تھا۔اب