سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 201 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 201

۲۰۱ مسلمانوں کا اس میثاق سے نقصان تھا یوپی میں انہیں پاسنگ نہ ملتا۔سی پی بہار مدراس، بمبئی میں انہیں چند نشستیں زیادہ نہ دی جاتیں تو کوئی مضائقہ نہ تھا لیکن اس میثاق نے ستم یہ کیا کہ بنگال میں جہاں وہ برابر تھے انہیں اقلیت میں تبدیل کر دیا اور پنجاب میں جہاں وہ اکثریت رکھتے تھے برابر کر دیئے گئے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنگال اور پنجاب جیسے مسلم صوبوں میں بھی مسلمان ہمیشہ پسماندہ رہے۔چاہئے تھا کہ مسلمان اس کی مخالفت کرتے لیکن انہوں نے اپنے دور رس ملی نقصان کو گوارا کر لیا۔" (حیات محمد علی جناح صفحہ ۷۷) اس معاہدہ کے انتہائی بھیانک خطرات (جن کی حضور نے نشان دہی فرمائی تھی) سے بچنے کیلئے مسلم لیگ کو اپنے بنیادی مطالبات میں جنہیں قائد اعظم محمد علی جناح نے مرتب فرمایا تھا اور جو بعد میں ”مسٹر جناح کے چودہ نکات " کے نام سے مشہور ہوئے۔یہ مطالبہ شامل کرنا پڑا کہ ” آئندہ کوئی ایسی تبدیلی نہ کی جائے جس کا اثر صوبہ پنجاب اور بنگال کی مسلم اکثریتوں پر پڑے۔" (حیات محمد علی جناح صفحہ ۱۷) ہماری قوم حضرت مصلح موعود کی بر وقت رہنمائی سے نہ صرف ایک بہت بڑے نقصان سے محفوظ ہو گئی بلکہ عملاً آزاد وطن پاکستان کے حصول کی منزل سے ایک قدم اور نزدیک ہو گئی۔سوانح فضل عمر جلد دوم میں حضور کی ملی خدمات کے ضمن میں یہ ذکر ہو چکا ہے سکھ مسئلہ کا حل کہ آپ کی تمام تر سیاسی کارروائیاں قرآنی اصولوں کے تابع تھیں اور یہی وجہ ہے کہ آپ نے کبھی اپنے اصولوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور یہ بھی کہ آپ کی تجویز کردہ راہ عمل ہی کامیابی کی ضامن ہوتی تھی۔حضور کی ملی خدمات زیادہ قریب سے اور زیادہ غور سے دیکھی جائیں تو یہ امر ابھر کر سامنے آتا ہے کہ حضور علی کے ارشاد مبارک أنْصُرُ أَخَاكَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُوما کی بڑی خوبصورت و عمدہ تشریح و تفسیر ہی نہیں تعمیل بھی ہو رہی ہے۔ہندوستان میں غالب اکثریت ہندوؤں کی تھی ان کی سیاسی و معاشی سوجھ بوجھ ہندوستان کی کسی بھی اور قوم سے زیادہ تھی اور اس کے نتیجے میں وہ مسلمانوں پر زیادتی کے کسی موقع کو بھی ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ان کا اثر و رسوخ اور وسائل و ذرائع بہت زیادہ تھے۔مگر حضور نے ان کی اس حیثیت سے مرعوب ہونے کی بجائے انہیں ان زیادتیوں اور مظالم سے روکنے کی پوری