سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 151
۱۵۱ کیا ہے کہ تم اس قسم کی باتیں کرو۔بے شک ہمارے اعلان کے مطابق تم آزاد ہو مگر اس آزادی کی تعبیر بتانا ہمارا کام ہے ( اور اس آزادی کا مضحکہ خیز پہلو یہ ہے ) کہ لبنان کے وزیروں کو پکڑ کر قید کر لیا گیا ہے۔سوانح فضل عمر حصہ دوم میں حضور کی سیاسی معاملات میں (الفضل ۲۰ نومبر ۱۹۴۳ء) سپین میں اشاعت اسلام غیر معمولی بصیرت و فراست کے متعلق بیان ہو چکا ہے۔معاہدہ ترکی ، تحریک خلافت ، ترکِ موالات جیسے مسائل میں مسلمانوں کے مفاد کے تحفظ اور قرآن مجید کے غیر متبدل اصولوں کی روشنی میں رہنمائی کا ذکر بھی ہو چکا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ آپ کو مسلمانوں سے محبت اور اسلام کا درد حضرت مسیح موعود علیہ اسلام سے ورثہ میں ملا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اکناف عالم میں کسی جگہ بھی مسلمانوں پر نازل ہونے والی مصیبت و تکلیف آپ کے دردمند دل کو بے تاب کر دیتی تھی۔مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی آخری نشانی سپین کا ذکر کرتے ہوئے آپ کس درد سے فرماتے ہیں:۔"سپین میں جو مسلمانوں کا حشر ہوا وہ مسلمانوں کی تاریخ میں ایک تاریک ترین لمحہ تھا۔میں سمجھتا ہوں کوئی مسلمان جس کے دل میں ایک ذرہ بھر بھی ایمان ہو وہ سپین کے مسلمانوں کی اس آخری جنگ کے حالات پڑھ کر جو انہیں عیسائیوں سے لڑنی پڑی بغیر اس کے نہیں رہ سکتا کہ اس کا دل خون ہو جائے اور اس کی آنکھیں پر نم وہ کبھی ٹھنڈے دل سے ان واقعات کو نہیں پڑھ سکتا وہ کبھی خشک آنکھوں سے ان واقعات کو نہیں پڑھ سکتا میں سمجھتا ہوں کہ کوئی درد رکھنے والا مسلمان ساکن جسم سے ان واقعات کو نہیں پڑھ سکتا۔ایک ذرہ بھر در در رکھنے والا مسلمان بھی جب ان واقعات کو پڑھتا ہے اس کا دل دھڑ کنے لگ جاتا ہے ، اس کے آنسو رواں ہو جاتے ہیں اور اس کا جسم کانپنے لگ جاتا ہے۔اسلام کی فوقیت کا جھنڈا لہرانے والا وہ ملک جس نے یورپ پر سینکڑوں سال حکومت کی اور جس نے اسلام کی برتری اور فوقیت کو نہایت مضبوطی سے قائم رکھا آج وہاں اسلام کا نام و نشان بھی نہیں سوائے ان چند عمارتوں کے جو مسلمانوں کے عہد ماضی کی یاد گار کے طور پر اب تک وہاں موجود ہیں۔et میں یقین رکھتا ہوں کہ جب خدا تعالیٰ نے اسلام کو حیات تازہ بخشی تو اس نشأة ثانیہ میں ایسے لوگوں کی (نیچے قربانی کرنے والے مسلمان) روھیں پھر ظاہر ہوں گی۔پھر