سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 150
۱۵۰ نگرانی دی گئی اور کچھ حصہ فرانسیسیوں کے سپرد کر دیا گیا۔اب پھر یہ دوسری جنگ آئی اور اس جنگ کے شروع میں ہی فرانس کو شکست ہو گئی چونکہ شام اور لبنان کے علاقے اس فرانسیسی حکومت کے ماتحت تھے جس کا جرمنی کے ساتھ تعلق تھا اس لئے اتحادیوں کو یہ فکر پیدا ہوئی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جرمنی اور اس کے فرانسیسی ساتھی ان ممالک کو اڈا بنا لیں اور ہمارے علاقہ میں شرارت پھیلانا شروع کر دیں۔چنانچہ انہوں نے یہ نہایت اچھی چال چلی کہ ان ممالک پر حملہ کر دیا اور آزاد فرانسیسی دستوں کے کمانڈر نے اعلان کیا کہ تم مدت سے آزادی کے طالب تھے مگر تمہیں فرانسیسی گورنمنٹ آزادی نہیں دیتی تھی اب وقت آگیا ہے کہ تمہیں آزاد کر دیا جائے اور تمہارا شمار بھی دنیا کے آزاد ممالک کی صف میں ہو تم اس وقت ہماری مدد کرو تم کو عملاً آزادی دے دی جائے گی اور جنگ ختم ہونے پر ہم تمہیں پوری آزادی دے دیں گے۔اس اعلان پر پھر وہ لوگ جو ایک عرصہ سے آزادی کا خواب دیکھ رہے تھے میدان میں نکل آئے اور انہوں نے کہیں سڑکیں تو ڑنی شروع کر دیں کہیں ریلوے کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا اور اس طرح ملک کے اندرونی حصہ میں بغاوت پیدا کر دی تاکہ انہیں آزادی حاصل ہو۔باہر سے انگریزوں نے آزاد فرانسیسی دستوں کے ساتھ مل کر حملہ کروایا اور چند دنوں میں ہی شام اور لبنان وغیرہ پر قبضہ کر لیا۔جب جنگ ختم ہوئی اور قبضہ مکمل ہو گیا تو آزاد فرانس کے نمائندہ کی طرف سے اعلان کر دیا گیا کہ لواب تم آزاد ہو کچھ عرصہ تک تو وہ خاموش رہے آخر انہوں نے سوچا کہ ہماری آزادی کا اعلان تو کر دیا گیا مگر ہم آزاد ہیں کس طرح؟ انہوں نے کہا بے شک آپ نے کہہ دیا ہے کہ ہم آزاد ہیں مگر ہم کس طرح سمجھیں کہ ہم آزاد ہیں۔فوج تمہاری ہے گورنر تمہارے ہیں پولیس تمہاری ہے ، تمام طاقت کے عہدے تمہارے پاس ہیں، پھر ہم کس طرح آزاد ہو گئے ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس آزادی کے معانی کیا ہیں ؟ اس کشمکش کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی کمیٹی نے فیصلہ کر دیا کہ جب حکومت کے اپنے اعلان کی رو سے ہم آزاد ہیں تو آج سے ہم اپنے لئے آپ قانون بناتے ہیں۔چنانچہ اس غرض کیلئے پارلیمنٹ میں بھی ایک بل پیش کر دیا گیا۔یہ دیکھ کر فرانس کی وہ آزادی کی کمیٹی جس کے ماتحت وہ آ گئے تھے اس نے ان کو دبانا شروع کر دیا کہ تمہیں اپنے ملک کا قانون بنانے کا کس نے اختیار دیا ہے اور تمہاراحق ہی