سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 152 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 152

۱۵۲ ہسپانیہ محمد رسول اللہ میں کی دیوی کے جھنڈے کے نیچے آئے گا اور اس دفعہ اس طرح آئے گا کہ پھر نہیں نکل سکے گا۔" (الفضل ۱۴۔ستمبر ۱۹۳۹ء) پین میں نور اسلام پھیلانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔" تاریخ اسلام کی ان باتوں سے جو مجھے بہت پیاری لگتی ہیں ایک بات ایک ہسپانوی جرنیل کی ہے جب پین میں مسلمانوں کی طاقت اتنی کمزور ہو گئی کہ ان کے ہاتھ میں صرف ایک قلعہ رہ گیا جو آخری قلعہ تھا تو عیسائیوں نے ان کے سامنے بعض شرائط پیش کیں اور کہا کہ اگر بچنا چاہتے ہو تو ان کو مان لو وہ شرائط ایسی تھیں کہ جنہیں مان کر اسلام سپین میں عزت سے نہ رہ سکتا تھا۔بادشاہ وقت ان شرائط کو ماننے کیلئے تیار ہو گیا دو سرے جرنیل بھی تیار تھے مگر یہ جرنیل کھڑا ہوا اور کہا کہ اے لوگو! کیا کرتے ہو ؟ کیا تمہیں یقین ہے کہ عیسائی اپنے وعدوں کو پورا کریں گے۔ہمارے باپ دادا نے پین میں اسلام کا بیج بویا تھا اب تم اپنے ہاتھوں سے اس درخت کو گرانے لگے ہو۔ان لوگوں نے کہا کہ سوائے اس کے ہو کیا سکتا ہے؟ اس جرنیل نے کہا۔یہ سوال نہیں کہ دشمن سے کامیاب مقابلہ کی صورت کیا ہے نہ ہمیں اس کے پوچھنے کی ضرورت ہے ہمیں اپنا فرض ادا کرنا چاہئے اور ہم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ مرجائے مگران شرائط کو تسلیم نہ کرے اس طرح یہ ذلت تو نہیں اٹھانی پڑے گی کہ اپنے ہاتھ سے حکومت دشمن کو دے دیں جو کچھ تمہارے اختیار کی بات ہے وہ کر دو اور باقی خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔یہ بات سنکر وہ لوگ بنے اور کہا اس قربانی کا کیا فائدہ ؟ اور سب نے انکار کیا مگر اس نے کہا اگر تم اس بے غیرتی کو پسند کرتے ہو تو کرو میں تو اپنے ہاتھوں اسلامی بھنڈا دشمن کے حوالے نہ کروں گا۔قریباً ایک لاکھ کا لشکر تھا جو قلعہ کے باہر جمع تھا۔وہ اکیلا ہی تلوار لے کر باہر نکلا۔دشمن پر حملہ کر دیا اور لڑتے لڑتے شہید ہو گیا۔بے شک اس کی شہادت کے باوجود سپین میں مسلمانوں کی حکومت تو قائم نہ رہ سکی مگر اس کا نام ہمیشہ کیلئے زندہ رہ گیا اور موت اسے مٹانہ سکی۔وہ بادشاہ اور جرنیل جنہوں نے اس کے مشورہ کو تسلیم نہ کیا اور اپنی جانیں بچانی چاہیں وہ مٹ گئے۔ان کا ذکر پڑھ کر اور سن کر ہم اپنے نفسوں کو بڑے زور سے ان پر لعنت کرنے سے روکتے ہیں۔لیکن کبھی سپین کے حالات کا میں مطالعہ نہیں کرتا یا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہ باتیں میرے ذہن میں آئی ہوں اور اس