سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 124
۱۳۴ ہونے کے معابعد یہ پروگرام بھی تھا کہ حضرت صاحب اپنی مجوزہ مستقل رہائش گاہ کے ساتھ متصل زمین میں مسجد کی بنیاد بھی رکھیں گے۔لیکن چونکہ اس مسجد کی داغ بیل میں کچھ غلطی نظر آئی اس لئے اسے کسی دوسرے وقت پر ملتوی کر دیا گیا۔عصر کی نماز حضور نے اس مسجد میں ادا فرمائی جو حضور کے عارضی مکان کے قریب ہی عارضی طور پر بنائی گئی ہے اور اسی لئے اسے مسجد کی بجائے ” جائے نماز " کا نام دیا گیا ہے۔کیونکہ بعد میں یہ مسجد مستقل جگہ کی طرف منتقل کر دی جائے گی۔یہ جائے نماز ایک کھلے چھپر کی صورت میں ہے جس کے نیچے لکڑی کے ستونوں کا سہارا دیا گیا ہے۔اور اس کے سامنے ایک فراخ کچا صحن ہے اور اس مسجد کے علاوہ بھی ایک دو عارضی مسجد میں ربوہ میں تعمیر کی جا چکی ہیں کیونکہ اس وقت ربوہ کی آبادی ایک ہزار نفوس کے قریب بتائی جاتی ہے اور آبادی کی نوعیت بھی ایسی ہے کہ عام نمازوں میں سب دوستوں کا ایک مسجد میں جمع ہونا مشکل سمجھا گیا ہے۔عصر کی نماز کے بعد دوستوں نے حضور سے مصافحہ کا شرف بھی حاصل کیا۔" (الفضل ۲۲۔ستمبر ۱۹۴۹ء) سهلا جلسہ سالانہ مرکز نو کی تعمیر کا کام قدم بہ قدم آگے بڑھ رہا تھا۔ہجرت کی وجہ سے دسمبر ۱۹۴۷ء میں روائتی طریق پر جلسہ سالانہ کا انعقاد نا ممکن تھا۔مہاجرین پورے طور پر آباد نہیں ہوئے تھے۔باہم رابطے بھی پوری طرح نہیں ہو سکے تھے۔جماعتی سطح پر حضور نے رابطوں کی ایک سکیم جاری فرمائی تھی اور علماء کرام اور معززین جماعت کے وفود کو تمام جماعتوں اور افراد جماعت سے رابطہ کیلئے بھیجوایا تھا تاہم یہ کام ابتدائی مراحل میں تھا۔دوسری طرف جلسہ سالانہ کی اہمیت کے پیش نظر حضور یہ بھی پسند نہ فرماتے تھے کہ اس میں کوئی تعطل ہو لہذا ساری جماعت کے باقاعدہ جلسہ سالانہ کی بجائے دسمبر۷ ۱۹۴ء میں جلسہ کی مقررہ تاریخوں پر لاہور کی جماعت کے زیر انتظام جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔اس جلسہ کے متعلق یہ وضاحت کر دی گئی تھی کہ یہ عالمی جماعت کا سالانہ جلسہ نہیں بلکہ لاہور جماعت کا جلسہ سالانہ ہے پھر بھی معشاق احمد یت اس روحانی مائدہ سے استفادہ کے لئے ہزاروں کی تعداد میں پہنچ گئے۔جماعتی سالانہ جلسہ کے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس کا انعقاد ہمارے نئے مرکز میں اپریل ۱۹۴۸ء میں ہو گا۔انتظامی لحاظ سے یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔قادیان میں جماعتی سکول اور بعض دوسری بڑی بڑی عمارتوں کی وجہ سے مہمانوں کی اکثریت ان میں قیام کرتی تھی مگر ربوہ میں تو ابھی تک یہ صورت نہ تھی اس وجہ سے رہائش کا