سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 71 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 71

پر ناراض نہ ہوں۔یہ ایک غیر معمولی بات تھی۔پھر منارۃ البیضاء کا بھی عجیب معاملہ ہوا۔ایک مولوی عبد القادر صاحب سید ولی اللہ شاہ صاحب کے دوست تھے۔ان سے میں نے پوچھا کہ وہ منارہ کہاں ہے جس پر تمہارے نزدیک حضرت عیسی نے اُترنا ہے کہنے لگے مسجد امویہ کا ہے، لیکن ایک اور مولوی صاحب نے کہا کہ عیسائیوں کے محلہ میں ہے ایک اور نے کہا حضرت عیسی آکر خود بنائیں گے۔اب ہمیں حیرت تھی کہ وہ کونسا منارہ ہے۔دیکھ تو چلیں صبح کوئیں نے ہوٹل میں نماز پڑھائی اس وقت میں اور ذوالفقار علی خان صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تھے۔یعنی میرے پیچھے دو مقتدی تھے جب میں نے سلام پھیرا تو دیکھا سامنے منا رہے اور ہمارے اور اس کے درمیان صرف ایک سڑک کا فاصلہ ہے۔میں نے کہا یہی وہ منار ہے اور ہم اس کے مشرق میں تھے۔یہی وہاں سفید منارہ تھا اور کوئی نہ تھا۔مسجد امویہ والے منار نیلے سے رنگ کے تھے جب میں نے اس سفید منارہ کو دیکھا اور پیچھے دو ہی مقتدی تھے تو میں نے کہا کہ وہ حدیث بھی پوری ہو گئی یہ الفضل هر دسمبر ۱۹۲۳ة ) " دمشق میں توقع سے بہت بڑھ چڑھ کر کامیابی ہوئی۔۔۔۔۔۔اخبارات نے لمبے لمبے تعریفی مضامین شائع کئے۔دمشق کے تعلیم یافتہ طبقے نے نہایت گہری دلچسپی لی۔تمام وہ اخبارات جن میں ہمارے مشن کے متعلق خبریں اور مضامین نکلتے تھے کثرت سے فوراً فروخت ہو جاتے تھے۔الفضل ۲۸ اگست ۱۹۲۴ ) یوپ کا ملاقات سے گریز : اس یادگار سفر میں مقتدر مذہبی شخصیت پوپ کو اسلام کی پرکشش و حسین تعلیم سے آگاہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔پوپ نے اس شاندار موقع کو بعض معمولی عذرات سے ٹال دیا اور نہ اسلام کی حقانیت و دلکشی کے اظہار کا ایک بہت ہی اچھا نظارہ دیکھنے میں ملتا۔البتہ اس کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ دنیائے عیسائیت پر اتمام محبت ہو گئی جو اپنی جگہ بہت بڑا فائدہ ہے۔پوپ کی ٹال مٹول کا بیان حضور کے اپنے الفاظ میں پیش ہے : " ہ میں جب میں یورپ گیا تو روم میں بھی ٹھہرا وہاں میں نے پوپ کو لکھا کہ تم عیسائیت کے پہلوان ہو اور میں اسلام کا پہلوان ہوں۔مجھے ملاقات کا موقع دو