سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 70 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 70

تھے۔۔۔۔۔نہ کوئی علماء کی جماعت تھی نہ انتظام تھا۔و ۱۹۲۴ الفضل ۱۳ ستمبر ۳ ایک نشان : اس عظیم سفر کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی اور صداقت احمدیت کا ایک عجیب نشان ظاہر ہوا۔اس انعام خداوندی کا ذکر کرتے ہوتے حضور فرماتے ہیں : " جب ہم دمشق میں گئے تو اول تو ٹھہرنے کی جگہ ہی نہ ملتی تھی۔مشکل سے انتظام ہوا مگر دو دن تک کسی نے کوئی توجہ نہ کی۔میں بہت گھبرایا اور دعا کی کہ اسے اللہ ! پیشگوئی جو مشق کے متعلق ہے کسی طرح پوری ہوگی۔اس کا یہ مطلب تو ہو نہیں سکتا کہ ہم ہاتھ لگا کر واپس چلے جائیں۔تو اپنے فضل سے کامیابی عطا فرما۔جب میں دعا کر کے سویا تو رات کو یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہو گئے۔عَبْدُ مُكَرَم یعنی ہمارا بندہ جس کو عزت دی گئی۔۔۔۔۔چنانچہ دوسرے ہی دن جب اُٹھے تو لوگ آنے لگے یہاں تک کہ صبح سے رات کے بارہ بجے تک دو سو سے لیکر بارہ سو تک لوگ ہوٹل کے سامنے کھڑے رہتے۔اس سے ہوٹل والا ڈر گیا کہ فساد نہ ہو جائے۔پولیس بھی آگئی اور پولیس افسر کہنے لگا فساد کا خطرہ ہے۔میں نے یہ دکھانے کے لیے کہ لوگ فساد کی نیت سے نہیں آتے۔مجمع کے سامنے کھڑا ہو گیا۔چند ایک نے گالیاں بھی دیں۔لیکن اکثر نہایت محبت کا اظہار کرتے اور هَذَا ابْنُ المَهْدِي کہتے اور سلام کرتے مگر باوجود اس کے پولیس والوں نے کہا کہ اندر بیٹھیں۔ہماری ذمہ داری ہے۔اور اس طرح ہمیں اندر بند کر دیا گیا۔اس پر ہم نے برٹش قونصل کو فون کیا۔۔۔۔۔۔اس پرالیسا انتظام کر دیا گیا کہ لوگ اجازت لے کر اندر آتے رہے۔۔۔۔۔غرض عجیب رنگ تھا کالجوں کے لڑکے اور پروفیسر آتے۔کا پہیاں ساتھ لاتے اور جو میں بولتا لکھتے جاتے اگر کوئی لفظ رہ جاتا تو کہتے یا استناد ذرا ٹھر لیتے۔یہ لفظ رہ گیا ہے۔گویا انجیل کا وہ نظارہ تھا جہاں اسے استاد کر کے حضرت میسج کو مخاطب کرنے کا ذکر ہے۔اگر کسی مولوی نے خلاف بولنا چاہا تو وہی لوگ ایسے ڈانٹ دیتے ایک مولوی آیا جو بڑا با اثر سمجھا جاتا تھا۔اس نے ذرا نا واجب باتیں کیں توتعلیم یافتہ لوگوں نے ڈانٹ دیا اور کہ دیا کہ ایسی بیہودہ باتیں نہ کرو۔ہم تمہاری باتیں سننے کے لیے نہیں آتے اس پہ پر وہ چلا گیا۔اور روسا معذرت کرنے لگے کہ وہ بیوقوف تھا۔اس کی کسی بات