سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 72 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 72

تا کہ بالمشافہ اسلام اور عیسائیت کے متعلق میں بات کر سکوں اس کے جواب میں پوپ کے سیکوٹری کی طرف سے مجھے چٹھی آئی کہ پوپ صاحب کی طبیعت خراب ہے۔اس لیے وہ مل نہیں سکتے انہی دنوں اٹلی کے ایک اخبار کا ایڈیٹر جو سوشلسٹ تھا مجھے ملنے آیا وہ ایسا اخبار تھا جس کے دن میں بارہ ایڈیشن نکلتے تھے۔۔۔۔۔۔اس نے مجھے کہا کہ آپ یہاں پہلی دفعہ آتے ہیں۔یہ بڑا اچھا موقعہ ہے آپ پوپ سے ملاقات کی کوشش کریں ہمیں مسلمانوں کے لیڈر کے خیالات سننے کا موقع مل جائے گا اور بالمقابل عیسائیوں کے لیڈر کے خیالات سننے کا بھی موقع مل جائے گا۔میں نے کہا میں نے تو خود اس سے ملاقات کی کوشش کی تھی مگر اس کے سیکرٹری کی طرف سے جواب آگیا ہے کہ پوپ صاب کی طبیعت اچھی نہیں۔کہنے لگا آپ ایک دفعہ پھر انہیں میری خاطر لکھیں۔میں نے کہا اس کے معنے تو یہ ہیں کہ تم مجھے بے عزت کروانا چاہتے ہو کیونکہ اس نے ملاقات کا موقع نہیں دینا۔کہنے لگا ہماری نظروں میں تو اس سے آپ کی عزت بڑھے گی کم نہیں ہوگی۔۔۔۔میں نے اس کے کہنے پر پھر خط لکھ دیا اس کے جواب میں اس کے چیف سیکرٹری کی مجھے میٹھی آئی کہ پوپ کا محل آج کل زیر مرمت ہے اس لیے افسوس ہے کہ وہ ملاقات نہیں کر سکتے دو چار دن کے بعد پھر وہی ایڈیٹرھنے کے لیے آیا تو اس نے پوچھا کہ کیا پوپ کی طرف سے کوئی جواب آیا ہے میں نے کہا ہاں۔اس نے یہ جواب دیا ہے تم پڑھ لو اس چھٹی کو پڑھ کر اسے بڑا غصہ آیا اور کہنے لگا کہ اب میں اپنے اخبار میں اس کی خبر لوں گا۔چنانچہ دوسرے دن اخبار چھپا تو اس میں اس نے ایک بڑا مضمون لکھا کہ یہاں آجکل مسلمانوں کا ایک بہت بڑا لیڈر آیا ہوا ہے اس نے پوپ کو خط لکھا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں مجھے طاقات کا موقعہ دیا جائے تاکہ اسلام اور عیسائیت کے متعلق باہم گفتگو ہو جاتے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ موقعہ بڑا اچھا تھا اور اگر ملاقات ہو جاتی تو پتہ لگ جاتا کہ ہمارے لیڈر اپنے مذہب سے کتنے واقف ہیں اور مسلمانوں کے لیڈر اپنے مذہب سے کتنی واقفیت رکھتے ہیں۔مگر پوپ کے چیف سیکرٹری نے اس کا یہ جواب دیا کہ پوپ کا محل آجکل زیور است ہے اس لیے وہ علاقات نہیں کر سکتے۔اس کے بعد اس نے طنز لکھا کہ ہم یقین کرتے ہیں کہ اب پوپ کا محل قیامت تک زیر مرمت ہی رہے گا۔خطبه جمعه ۲۳ اگست ۹۵۷اه مطبوعه الفضل سے ستمبر یه ،