سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 68
4A قیام کے متعلق حضور فرماتے ہیں :- ہم قاہرہ میں صرف دو دن ٹھہر ہے۔۔۔۔۔۔میرے نزدیک مصر مسلمانوں کا بچہ ہے جسے یورپ نے اپنے گھر میں پالا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے بلاد اسلامیہ کے اخلاق کو خراب کرے۔مگر میرا دل کہتا ہے اور جب سے میں نے قرآن کریم کو سمجھا ہے میں برا بر اس کی بعض سورتوں سے استدلال کرتا ہوں اور اپنے شاگردوں کو کتنا چلا آیا ہوں کہ یورین فوقیت کی تباہی مصر سے وابستہ ہے اور اب میں اسی بنا پر کہتا ہوں۔۔۔۔- مصر جب خدا تعالیٰ کی تربیت میں آجائے گا تو وہ اسی طرح یورپین تہذیب کے مخرب اخلاق حصوں کو توڑنے میں کامیاب ہو گا جس طرح حضرت موسی فرعون کی تباہی ہیں۔بے شک اس وقت یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے مگر جو زندہ رہیں گے وہ دیکھیں گے۔میں نے قاہرہ پہنچتے ہی۔۔۔۔۔۔اس بات کا اندازہ لگا کر کہ وقت کم ہے اور کام زیادہ ساتھیوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ایک حصہ اخبارات و جرائد کے مدیروں کے ملنے میں مشغول ہوا اور دوسرا پاسپورٹوں اور ڈاک کے متعلق کام میں لگ گیا۔میر اسفر کی بعض ضرورتوں کو میتا کرنے میں۔۔۔۔۔۔۔یہ علاقے تبلیغ کے لیے بہت روپیہ چاہتے ہیں مگراسی طرح جب ان میں تبلیغ کامیاب ہو جاتے تو اشاعت اسلام کے لیے ان سے مدد بھی بہت کچھ مل سکتی ہے۔۔۔۔۔۔علاوہ ان لوگوں کے جن سے ملنے ہمارے لوگ خود جاتے رہے بعض لوگ گھر پر بھی ملنے آتے رہے۔چنانچہ جامعہ ازہر کے ماتحت جو خلافت کمیٹی بنی ہے ----- اس انجمن کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری اور بعض دوسرے لوگ ملنے کے لیے آتے ----- اس کے بعد مصر کے ایک مشہور صوفی سید ابوالعزائم صاحب ملنے کو آتے یہ صاحب مصر کے بہت بڑے پیر ہیں۔مجھے جو مصر میں سب سے زیادہ خوشی ہوتی وہ وہاں کے احمدیوں کی ملاقات کے نتیجہ میں تھی۔تین مصری احمدی مجھے ملے اور تینوں نہایت ہی مخلص تھے۔دو از ہر کے تعلیم یافتہ اور ایک علوم جدیدہ کی تعلیم کی تحصیل کرنے والے دوست تینوں نہایت ہی مخلص اور جوشیلے تھے۔اور ان کے اخلاص اور جوش کی کیفیت کو دیکھ کر دل رقت سے بھر جاتا تھا۔تینوں نے نہایت درد دل سے اس بات کی خواہش کی کہ مصر کے کام کو مضبوط کیا جائے۔الفضل ۱۳ ستمبر ۲۳ ۲۴)