سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 67 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 67

44 ۲۰ جولائی کو آدھی رات کے وقت جہاز جب جدہ اور مکہ مکرمہ کے قریب سے گزرا تو حضور نے دورکعت نماز باجماعت پڑھائی جس میں لمبی رقت انگیز دعائیں کی گئیں۔۲۷ جولاتی رات کے وقت جنہوں نے ایک خیال انگیز مکتوب رقم فرما یا جین میں آپ نے یورپ میں اسلام کے پھیلنے کے یقین کا اظہار کرتے ہوئے بڑے پر شوکت الفاظ میں انتباہ فرمایا کہ کہیں ایسا نہ ہو یورپ اسلام کی آغوش میں آتے ہوئے اپنے تمدن و فرسودہ روایات کو اسلام کی چھاپ لگا کر وہی صورت پیدا کر دے جو مشرک رومیوں کے سیمی ہونے سے مسیحیت کے مسخ و مبدل ہونے کی صورت میں ہو چکی ہے۔آپ نے تحریر فرمایا : " ہمارا فرض ہے کہ اس مصیبت کے آنے سے پہلے اس کا علاج سوچیں اور یورپ کی تبلیغ کے لیے ہر قدم جو اُٹھائیں اس کے متعلق پہلے غور کر لیں اور یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہاں کے حالات کا عینی علم حاصل نہ ہو پس اسی وجہ سے باوجود صحت کی کمزوری کے میں نے اس سفر کو اختیار کیا ہے اگر میں زندہ رہا تو انشا اللہ اس علم سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کروں گا۔اگر میں اس جدوجہد میں مرگیا تو اسے قوم میں ایک نذیر عریاں کی طرح تجھے منتخبہ کرتا ہوں کہ اس مصیبت کو کبھی نہ بھولنا۔اسلام کی شکل کو کبھی نہ بدلنے دینا جس خدا نے مسیح موعود کو بھیجا ہے وہ ضرور کوئی راستہ نجات کا نکال دے گا۔پس کوشش نہ چھوڑنا۔نہ چھوڑنا۔نہ چھوڑنا۔آہ نہ چھوڑنا۔میں کس طرح تم کو یقین دلاؤں کہ اسلام کا ہر اک حکم نا قابل تبدیل ہے خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا۔جو اس کو بدلت ہے وہ اسلام کا دشمن ہے وہ اسلام کی تباہی کی پہلی بنیاد رکھتا ہے۔کاش وہ پیدا نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔یورپ سب سے بڑا دشمن اسلام کا ہے۔وہ مانے نہ مانے تمہاری کوشش کا کوئی اثر ہو یا نہ ہو تم کو اسے نہیں چھوڑنا چاہتے اگر تم دشمن پر فتح نہیں پا سکتے تو تمہارا یہ فرض ضرور ہے کہ اس کی نقل و حرکت کو دیکھتے رہو۔۔۔۔۔۔۔یورپ کے لیے تو اسلام قبول کرنا مقدر ہو چکا ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم دیکھیں کہ وہ ایسی صورت سے اسلام کو قبول کرے کہ اسلام ہی کو نہ بدل دے " را نفضل ۱۲ راگست ۱۹۲۳مه پورٹ سعید سے حضور ایکسپریس گاڑی کے ذریعہ قاہرہ تشریف لے گئے۔مجاہد احمدیت شیخ محمود احمد صاحب عرفانی کو حضور اور دوسرے بزرگوں کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔قاہرہ میں دو روزہ