سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 69 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 69

49 قاہرہ سے حضور بیت المقدس تشریف لے گئے۔حضور اپنے مشاہدات و تاثرات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : دو دن کے قیام کے بعد ہم مشق کی طرف روانہ ہوئے مگر چونکہ راستہ میں بیت المقدس پڑتا تھا۔مقامات انبیاء کے دیکھے بغیر آگے جانا مناسب نہ سمجھا اور دو دن کے لیے وہاں ٹھر گئے۔۔۔۔۔۔۔بیت المقدس کا سب سے بڑا معبد جسے پہلے مسیحیوں نے یہودیوں سے چھین لیا اور بعد میں مسیحیوں سے چھین کر مسلمانوں نے اسے مسجد بنا دیا اس کی دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر ہفتہ میں دو دن برا بر دو ہزار سال سے یہودی روتے چلے آتے ہیں جس دن ہم اس جگہ کو دیکھنے کے لیے گئے وہ دن اتفاق سے ان کے رونے کا تھا۔عورتوں اور مردوں ، بوڑھوں اور بچوں کا دیوار کے پیچھے کھڑے ہو کر با تیل کی دُعائیں پڑھ پڑھ کر اظہار عجز کرنا ایک نہایت ہی افسردہ کن نظارہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔وہاں کے بڑے بڑے مسلمانوں سے میں ملا ہوں میں نے دیکھا کہ وہ مطمئن ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہودیوں کے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔مگر میرے نزدیک ان کی یہ رائے غلط ہے۔یہودی قوم اپنے آبائی ملک پر قبضہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔۔۔قرآن شریف کی پیشگوئیوں اور حضرت مسیح موعود کے بعض اللانه سے معلوم ہوتا ہے کہ سیودی ضرور اس ملک میں آباد ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔پس میرے نزدیک مسلمان روسا کا یہ اطمینان بالآخر ان کی تباہی کا موجب ہوگا۔سر کلین صاحب (قائم مقام ہائی کمشنر کو پہلی ملاقات میں ہمارے سلسلہ سے بھی بہت سی دلچسپی ہو گئی۔اور گور ہم نے دوسرے دن روانہ ہونا تھا مگر انہوں نے اصرار کیا کہ ڈیڑھ بجے ہم ان کے ساتھ کھانا کھا ئیں۔چنانچہ ڈیڑھ گھنٹہ تک دوسرے دن بھی ان کے ساتھ گفتگو ہوتی رہی اور فلسطین کی حالت کے متعلق بہت سی معلومات مجھے ان سے حاصل ہوئیں۔فلسطین سے چل کر ہم حیفا آتے جہاں سے کہ مشق کیلئے گاڑی بدلتی ہے۔۔۔۔۔۔صبح گاڑی لیکر میں سیر کے لیے گیا اور مجھے معلوم ہوا کہ بھائیوں کے لیڈر مسٹر شوقی آفندی عکہ کو چھوڑ کر حیفا میں آن بسے ہیں۔۔۔۔۔۔ہم ایک سڑک پر آرہے تھے ہمیں معلوم ہوا کہ اس کے پاس چند قدم پر ہی مرزا عباس علی صاحب عرف عبد البہاء کا مکان ہے۔شوقی آفندی تو وہاں موجود نہ