سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 41
مجلس میں زندگی کے آثار پیدا کرنے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اقول تنظیم کامل ہو جائے۔دوسرے متواتر حرکت عمل پیدا ہو جائے اور میرے اس کے کوئی اچھے نتائج نکلنے شروع ہو جاتیں۔۔۔۔۔۔۔غالباً مجلس انصاراللہ کا یہ پہلا سالانہ اجتماع ہے۔ہمیں امید کرتا ہوں کہ اس اجتماع میں وہ ان کاموں کی بنیاد قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔اور قادیان کی مجلس انصار اللہ بھی اور بیرونی مجالس بھی اپنی اس ذمہ داری کو محسوس کرینگی که بیر کا ہوشیاری اورکال بیداری کے کبھی قومی زندگی حاصل نہیں ہوسکتی۔اور ہمسایہ کی اصلاح میں ہی انسان کی اپنی اصلاح بھی ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ اس کے ہمسایہ کا اثر اس پر پڑتا ہے نہ صرف انسان بلکہ دنیا کی ہر ایک چیز اپنے پاس کی چیز سے متاثر ہوتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ پاس پاس کی چینیوں ایک دوسرے کے اثر کو قبول کرتی ہیں بلکہ سائنس کی موجودہ تحقیق سے تو یہاں تک پتہ چلتا ہے کہ جانوروں اور پرندوں وغیرہ کے رنگ ان پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے ہوتے ہیں جہاں وہ رہتے ہیں مچھلیاں پانی میں رہتی ہیں۔اس لیے ان کا رنگ پانی کی وجہ سے اور سورج کی شعاعوں کی وجہ سے جو پانی پر پڑتی ہیں سفید اور چمکیلا ہوگیا۔مینڈک کناروں پر رہتے ہیں اس لیے ان کا رنگ کناروں کی سبنر سبز گھاس کی وجہ سے سبنری مائل ہو گیا ہے۔ریتلے علاقوں میں رہنے والے جانور مٹیالے رنگ کے ہوتے ہیں۔سر سبز درختوں پر بسیرا رکھنے والے طوطے سبز رنگ کے ہو گئے۔جنگلوں اور سوکھی ہوئی جھاڑیوں میں رہنے والے تیتروں وغیرہ کا رنگ سوکھی ہوئی جھاڑیوں کی طرح ہو گیا۔غرض پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے اور ان کے اثرات قبول کرنے کی وجہ سے پرندوں کے رنگ بھی اس قسم کے ہو جاتے ہیں۔پس اگر جانوروں اور پرندوں کے رنگ پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے بدل جاتے ہیں حالانکہ ان میں دماغی قابلیت نہیں ہوتی تو انسانوں کے رنگ جن میں دماغی قابلیت بھی ہوتی ہے پاس کے لوگوں کی وجہ سے کیوں نہیں بدل سکتے۔خدا تعالے نے اسی لیے قرآن مجید میں فرمایا ہے عُونُوا مَعَ الصَّادِقِين - یعنی اگر تم اپنے اندر تقویٰ کا رنگ پیدا کرنا چاہتے ہو تو اس کا گریہی ہے کہ صادقوں کی مجلس اختیار کرو تاکہ تمہارے اندر بھی تقویٰ کا وہی رنگ تمہارے نیک ہمسایہ کے اثر کے ماتحت پیدا ہو جاتے۔جو اس میں پایا جاتا ہے۔۔۔اگر تم روحانی طور پر زندہ رہنا اور کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہارے لیے صرف اپنی اصلاح کر لینا ہی کافی نہیں بلکہ اپنے گرد و پیش کی