سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 40 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 40

سے نوجوانوں کو فائدہ پہنچاتے رہیں گے۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ نه ۱۲۵ اراکین محبس کو ان کے کام کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا :- میں سمجھتا ہوں انصاراللہ پر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔وہ اپنی عمر کے آخری حصہ میں سے گزر رہے ہیں اور یہ آخری حصہ وہ ہوتا ہے جب انسان دنیا کو چھوڑ کر اگلے جہان جانے کی فکر میں ہوتا ہے۔اور جب کوئی انسان اگلے جہان جارہا ہو تو اس وقت اسے اپنے حساب کی صفائی کا بہت زیادہ خیال ہوتا ہے۔اور وہ ڈرتا ہے کہ کہیں وہ ایسی حالت میں اس دُنیا سے کوچ نہ کر جاتے کہ اس کا حساب گندہ ہو۔اس کے اعمال خراب ہوں اور اس کے پاس وہ زاد راہ نہ ہو جو اگلے جہان میں کام آنے والا ہے۔جب احمدیت کی غرض یہی ہے کہ بندے اور خدا کا تعلق درست ہو جاتے تو ایسی عمر میں اور عمر کے ایسے حصہ میں اس کا جس قدر احساس ایک مومن کو ہونا چاہیئے وہ کسی شخص سے مخفی نہیں ہو سکتا نوجوان تو خیال بھی کر سکتے ہیں کہ اگر ہم سے خدمت خلق میں کوتاہی ہوتی تو انصار اللہ کام کو ٹھیک کر لیں گے۔مگر انصار اللہ کی پر انحصار کر سکتے ہیں۔وہ اگر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لیں گے اور اگر دین کی محبت اپنے نفوس میں اور پھر تمام دنیا کے قلوب میں پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہوں گے۔وہ اگر احمدیت کی اشاعت کو اپنا اولین مقصد قرار نہ دیں گے اور وہ اگر اس حقیقت سے اغماض کر لیں گے کہ انہوں نے اسلام کو دنیا میں پھر زندہ کرتا ہے۔تو انصار اللہ کی عمر کے بعد اور کونسی عمر ہے جس میں وہ یہ کام کریں گے۔انصار اللہ کی عمر کے بعد تو پھر ملک الموت کا زمانہ ہے اور ملک الموت اصلاح کے لیے نہیں آتا بلکہ وہ اس مقام پر کھڑا کرنے کے لیے آتا ہے جب کوئی انسان سنترا یا انعام کا مستحق ہو جاتا ہے۔۱۹۴۲ الفضل ۷ار نومبر ١٩٢٣ ) حضور کی ہدایت کے مطابق مجلس انصاراللہ نے بھی سالانہ اجتماع منعقد کرنے شروع کئے۔میں پہلے اجتماع پر حضور نے انصار کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اپنے مخصوص پرکشش و مؤثر انداز میں فرمایا :-